تقسیم کا کرب: دریا کے اس پار میت، اس پار سسکتے بہن بھائی—کیرن کے مقام پر دلدوز مناظر 4

تقسیم کا کرب: دریا کے اس پار میت، اس پار سسکتے بہن بھائی—کیرن کے مقام پر دلدوز مناظر

نیلم/مظفرآباد (خصوصی رپورٹ: دومیل نیوز): لائن آف کنٹرول (LoC) پر واقع گاؤں کیرن میں آج ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے انسانیت اور عالمی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں وفات پانے والے راجہ لیاقت علی خان کی میت کو جب آخری دیدار کے لیے نیلم کے مشرقی کنارے پر لایا گیا، تو دریا کے مغربی کنارے (آزاد کشمیر) پر کھڑا ان کا پورا خاندان بے بسی اور آہ و فغاں کی تصویر بن گیا۔

ایک دیوار، چند قدم کا فاصلہ اور برسوں کی جدائی

راجہ لیاقت علی خان، جو مشہور حریت پسند رہنما راجہ اظہار خان کے فرزند اور مقبوضہ کشمیر میں بطور تحصیلدار خدمات سرانجام دے رہے تھے، گذشتہ روز خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

ہجرت کا زخم: تقسیم کے وقت لیاقت علی خان اپنے چچا کے پاس مقبوضہ کپواڑہ میں ہی رہ گئے تھے، جبکہ ان کی ہمشیرہ اور سات بھائی ہجرت کر کے آزاد کشمیر منتقل ہو گئے تھے۔

آخری دیدار کا تماشا: بھارتی حکام نے میت کو کیرن کے مقام پر دریا کے بالکل کنارے رکھا تاکہ پار موجود ان کے سگے بھائی اور بہن دیدار کر سکیں۔ درمیان میں محض چند گز کا فاصلہ تھا، لیکن یہ فاصلہ سرحدوں کی سنگدلی کی وجہ سے طے کرنا ناممکن تھا۔

سسکتی بہن اور بے بس بھائیوں کا نوحہ

دریا کے اس پار مظفرآباد سے پہنچا ہوا پورا خاندان کھڑا تھا، جہاں بہن کی آہ و پکار نے پتھروں کا دل بھی پاش پاش کر دیا۔ بھائیوں نے دور سے اپنے بھائی کے تابوت کو تو دیکھا، لیکن نہ وہ ان کا چہرہ دیکھ سکے، نہ ہی ان کے جنازے میں شریک ہو کر آخری دعاؤں کا حصہ بن سکے۔ یہ صرف ایک جنازہ نہیں تھا، بلکہ بٹے ہوئے دلوں اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کی وہ تصویر تھی جو کشمیر کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

ایک علمی اور مجاہد گھرانے کا چراغ گل

مرحوم راجہ لیاقت علی خان کا خاندان تحریکِ آزادی اور عوامی خدمت کے حوالے سے ایک تاریخ رکھتا ہے:

والد: راجہ اظہار خان (مرحوم)، ایک ہمہ جہتی شخصیت اور حریت پسند رہنما۔

بھائی: راجہ عابد خان، جنہوں نے کارگل کی جنگ میں شجاعت کی مثال قائم کی اور جامِ شہادت نوش کیا۔

بھائی: راجہ حامد علی خان، جو تحریکِ آزادی کے سرگرم رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

راجہ لیاقت خان خود بھی ایک زیرک افسر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت تھے، جو تمام تر سیاسی و جغرافیائی مشکلات کے باوجود اپنے خاندان سے ملنے کی تڑپ دل میں لیے ہی رخصت ہو گئے۔

خلاصہ رپورٹ

پہلوتفصیلات
مرکزی شخصیتراجہ لیاقت علی خان (فرزند راجہ اظہار خان)
مقامِ وفاتضلع کپواڑہ، مقبوضہ کشمیر
آخری دیدار کا مقامکیرن (نیلم ویلی)، لائن آف کنٹرول
المیہسات بھائی اور بہن آزاد کشمیر سے اپنے بھائی کا آخری دیدار نہ کر سکے
پیغامتقسیمِ کشمیر کے انسانی اور جذباتی نقصانات کی علامت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں