آج سے آسٹریلیا شرح سود بڑھ کر 4.85 فیصد ہو گئی ہے۔ ریزرو بینک آف آسٹریلیا نے 3 نومبر کو یہ فیصلہ کیا تھا۔ اضافہ 0.25 فیصد پوائنٹ کا تھا۔ پہلے کیش ریٹ 4.60 فیصد تھا۔ اب یہ 4.85 فیصد ہو گیا ہے۔ فیصلہ 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے منظور ہوا۔ تین ارکان شرح کو 4.60 فیصد پر رکھنا چاہتے تھے۔ اکثریت نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ شرح 18 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ آخری بار یہ سطح 2008 کے آخر میں دیکھی گئی تھی۔ مارکیٹ میں اس فیصلے پر گہری نظر رکھی گئی۔ قرض لینے والوں کے لیے یہ خبر اہم ہے۔
سال 2026 میں یہ پانچواں اضافہ ہے۔ اضافے فروری، مارچ، مئی، ستمبر اور نومبر میں ہوئے۔ ہر بار بینک نے مہنگائی کو وجہ بتایا۔ مہنگائی کو قابو کرنا بینک کا بنیادی مقصد ہے۔ شرح بڑھانے سے قرض مہنگا ہوتا ہے۔ خرچ کم ہونے سے مہنگائی پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ یہی طریقہ کار مرکزی بینک عام طور پر اپناتے ہیں۔ تفصیل مالیاتی خبروں کے تناظر میں یہاں پڑھیں۔ موازنہ گزشتہ فیصلوں سے بھی کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کار اضافے کی رفتار پر بحث کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا شرح سود میں اضافے کی تفصیل
نئی پیش گوئیوں میں مہنگائی کا اندازہ تبدیل ہوا ہے۔ مہنگائی 2027 کے آخر تک 3 فیصد سے اوپر رہ سکتی ہے۔ ہدف کے درمیانی نقطے تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ اندازہ ہے کہ یہ نقطہ 2028 کے وسط میں آئے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ مہنگائی کا دباؤ جلد ختم نہیں ہوگا۔ بینک نے اس لیے سخت پالیسی جاری رکھی ہے۔ ووٹوں میں تقسیم سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بحث جاری ہے۔ تین ارکان نے رکنے کو ترجیح دی تھی۔ اکثریت نے اضافہ ضروری سمجھا تھا۔ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ یہ متفقہ نہیں تھا۔
قرض لینے والوں پر اثر اور اگلا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق 750,000 ڈالر کے قرض پر ماہانہ قسط تقریباً 120 ڈالر بڑھ سکتی ہے۔ یہ اندازہ منسوب رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ بڑے چار بینکوں نے ابھی پاس تھرو کا اعلان نہیں کیا تھا۔ وضاحت ضروری ہے کہ کیش ریٹ ایک معیار ہے۔ ہر قرض کی شرح اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔ بینک اپنی شرحیں الگ سے طے کرتے ہیں۔ صارفین کو اپنے بینک سے تصدیق کرنی چاہیے۔ اگلا فیصلہ 8 دسمبر 2026 کو ہوگا۔ اس فیصلے پر بھی مہنگائی کے اعداد اثر ڈالیں گے۔ مزید تفصیلات کے لیے بیرونی رپورٹ ملاحظہ کریں۔ خبر یہ صرف معلوماتی مقصد کے لیے دی گئی ہے۔