آج 4 نومبر 2026 سے نئی قیمتیں شروع ہوئیں۔ نئے اعلان کے تحت پٹرول کی قیمت کم ہو گئی۔ پٹرول کی نئی قیمت 369 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ ڈیزل کی نئی قیمت 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر رکھی گئی۔ ملک بھر میں یہ قیمتیں آج سے نافذ ہیں۔ اس کمی سے عام شہریوں کو ریلیف ملے گا۔ سفر کے اخراجات بھی کچھ کم ہوں گے۔ ترسیل پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
پٹرول میں 5 روپے 45 پیسے کمی ہوئی۔ گزشتہ قیمت 374 روپے 51 پیسے فی لیٹر تھی۔ نئی قیمت 369 روپے 6 پیسے فی لیٹر ہے۔ ڈیزل میں 3 روپے 68 پیسے کمی ہوئی۔ سابقہ قیمت 395 روپے 20 پیسے فی لیٹر تھی۔ موجودہ قیمت 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہے۔ اطلاق آج سے تمام پمپس پر ہوگا۔
پٹرول کی قیمت میں ایک ہفتے میں دوسری کمی
ہفتے میں یہ دوسری کمی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایندھن سستا ہوا تھا۔ تین نومبر کو پٹرول 3 روپے 40 پیسے کم ہوا تھا۔ نتیجتاً قیمت 374 روپے 51 پیسے ہوئی تھی۔ اسی دن ڈیزل 7 روپے 76 پیسے کم ہوا تھا۔ بعد ازاں ڈیزل 395 روپے 20 پیسے ہوا تھا۔ مجموعی طور پر دو روز کی کمی نمایاں ہے۔ مسلسل ریلیف شہریوں کو ملا ہے۔ تفصیل گزشتہ روز کی خبر میں یہاں پڑھیں۔
قیمتوں کا تعین اوگرا کے نوٹیفکیشن کے تحت کیا جاتا۔ وفاقی طریقہ کار بھی اس عمل میں شامل کیا گیا۔ عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھی جاتی ہیں۔ تبادلہ کی شرح کو بھی دیکھی جاتی۔ دیگر عوامل بھی شامل کیے جاتے۔ نظرثانی اب زیادہ بار ہو سکتی۔ روزانہ قیمتوں کا نیا طریقہ کار نافذ کیا گیا۔ نتیجے میں تبدیلیاں جلد سامنے آ سکتی ہیں۔ بیرونی اتار چڑھاؤ کا اثر تیزی سے پڑے گا۔
خام تیل کی قیمت اور لیوی
منڈی میں خام تیل سستا ہوا۔ رپورٹ کے مطابق کمی تقریباً دو فیصد ہے۔ سطح تین ہفتوں کی کم ترین ہے۔ یوکرین مذاکرات اس کی ایک وجہ قرار دی گئی۔ ایران مذاکرات بھی اس میں شامل کیے گئے۔ خبروں سے رسد کے خدشات کم ہوئے۔ عام طور پر عالمی کمی کا اثر دیر سے پڑتا۔ موجودہ صورت میں اثر نسبتاً جلد منتقل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پٹرولیم لیوی برقرار رکھی گئی۔ لیوی کی شرح 80 روپے فی لیٹر ہے۔ تبدیلی اس میں نہیں کی گئی۔ حصہ یہ قیمت کا الگ ہے۔ باوجود اس کے صارفین کو کمی کا فائدہ ملا۔ مستقبل میں عالمی کمی جاری رہی تو مزید کمی ممکن ہے۔ حتمی فیصلہ آئندہ نوٹیفکیشن سے ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے لیے ڈیزل بہت اہم ہے۔ مال بردار گاڑیاں ڈیزل پر چلتی ہیں۔ بسیں بھی ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔ زرعی مشینری بھی ڈیزل پر چلتی ہے۔ سستا ڈیزل ترسیل کو سستا کر سکتا۔ فائدہ اس کا اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتا۔ نجی گاڑیوں کا خرچ بھی کم ہوگا۔ موٹر سائیکل سواروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ مزید تفصیلات کے لیے بیرونی رپورٹ ملاحظہ کریں۔