102

قاتلوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے، 3 ماہ سے انصاف کے لیے دربدر ہیں: مقتول جہانزیب جاوید کے ورثاء کی پریس کانفرنس

ڈیلی دومیل نیوز.باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر محمود راتھر ) بیرون ملک سے چھٹی پر آئے نوجوان جہانزیب جاوید کے قتل کو تین ماہ گزرنے کے باوجود ورثاء کو انصاف نہ مل سکا۔ مقتول کے والد محمد جاوید خان، بھائی جہانگیر جاوید اور دیگر اہل خانہ نے پریس کلب باغ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومتی و تفتیشی ادارے قاتلوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

ورثاء کے مطابق 12 اپریل کو منصوبہ بندی کے تحت خاتون کے ذریعے جہانزیب کو گھر بلایا گیا، اور پھر منشاد نامی شخص نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسے قتل کر کے نعش گہری کھائی میں پھینک دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانزیب کئی سالوں سے بیرون ملک مقیم تھا اور قتل سے چند روز قبل ہی وطن واپس آیا تھا۔

پریس کانفرنس میں ممتاز خان، محمد خلیل خان، حافظ خالد، جمیل اور منشاد خان سمیت متعدد افراد موجود تھے۔ ورثاء نے انکشاف کیا کہ ابتدائی طور پر پولیس نے ایف آئی آر 302 کے تحت درج کی، مگر بعد ازاں اسے 322 میں تبدیل کر کے جرم کی نوعیت کو کمزور کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ نامزد ملزم صدام اگلے ہی دن بیرون ملک فرار ہو گیا۔

ورثاء نے شکایت کی کہ ڈی ایس پی راولاکوٹ طارق نے جب تفتیش کو صحیح سمت دی تو قاتل پارٹی کے دباؤ پر تفتیش ہی تبدیل کر دی گئی۔ انہوں نے ایس پی حویلی کی تفتیشی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم غریب لوگ ہیں، بیرون ملک محنت مزدوری کرتے ہیں، مگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔”

آخر میں انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، چیف جسٹس آزاد کشمیر اور جی او سی مری سے اپیل کی کہ

“ہمارے بھائی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں