ڈیلی دومیل نیوز.چناری (خصوصی رپورٹر) پانچ اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کے خلاف آزاد کشمیر بھر کی طرح جہلم ویلی میں بھی یومِ استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ ضلعی ہیڈکوارٹر ہٹیاں بالا، چناری، چکار، وادی لیپہ اور چکوٹھی سمیت ضلع بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن کیا گیا، احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور بھارت مخالف نعرے لگائے گئے۔
ہٹیاں بالا کے پل بازار پر صبح 10 بجے سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ بعد ازاں ایک احتجاجی ریلی پل بازار سے پریس کلب تک نکالی گئی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی بینش جرال اور ایس پی نے کی۔ ریلی میں سول سوسائٹی، سیاسی و سماجی رہنماؤں، بلدیاتی نمائندوں، انجمن تاجران، وکلاء، صحافیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے، اور “کشمیر بنے گا پاکستان”، “بھارت مردہ باد” جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ بازار بند رہے اور عمارتوں پر سیاہ جھنڈے لہرائے گئے۔
چناری میں انجمن تاجران کے جنرل سیکرٹری پروفیسر میر خالد لطیف، مرزا آصف مغل، سید غلام نبی شاہ نے مظاہرے کی قیادت کی۔
چکار میں اسسٹنٹ کمشنر سردار علی زمان صیاد، ایڈمنسٹریٹر ملک بشیر، سردار فاروق، منیب چکاروی اور عارف ڈار نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔
وادی لیپہ میں بھی عوام بھارت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ 5 اگست 2019 کا دن کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر ان کی شناخت اور خودمختاری چھینی ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ غیر قانونی اور غیر انسانی اقدام ہے۔
مقررین نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم وطن کے دفاع میں افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ 5 اگست کو یومِ استحصال کشمیر کے طور پر ہر سال سرکاری سطح پر منایا جائے تاکہ نئی نسل کو کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں سے روشناس کروایا جا سکے۔
عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت پر دباؤ ڈال کر مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرہ ختم کیا جائے، میڈیا بلیک آؤٹ کا خاتمہ اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روکی جائیں۔ مقررین نے کہا کہ کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے اور وہ اپنی آزادی کی جنگ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر لڑ رہے ہیں۔
آخر میں کشمیر کی آزادی، پاکستان کی سلامتی اور افواج پاکستان کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔