114

شہر اقتدار کے بڑے ہسپتال میں صحت کارڈ پر علاج معالجہ نہ ہونے کو سول سوساٸٹی نے سازش قرار دے دیا

مظفرآباد(خبر نگار خصوصی)شہر اقتدار کے بڑے ہسپتال میں صحت کارڈ پر علاج معالجہ نہ ہونے کو سول سوساٸٹی نے سازش قرار دے دیا،ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن نے بھی آواز حق بلند کر دی،پریزیڈنٹ واے ڈی اے آزاد کشمیر ڈاکٹر زاہد حسین نے بھی فوری نوٹس کا مطالبہ کر دیا،ہیلتھ کارڈ پر علاج معالجہ کی سہولیات کو کس نے اور کیسے بند کیا گیا،آج تک خاموشی کیوں رہی پتہ لگانا وقت کی ضرورت بن گیا،تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر بھر کے تمام بڑے ہسپتالوں میں صحت کارڈ پر مکمل علاج کیا جا رہا ہے مگر دارلحکومت کے بڑے ہسپتال ایمز امبور میں صحت کارڈ پر علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں جس پر سول سوساٸٹی اور واٸی ڈی اے نے سوالات اٹھاتے ہوۓ کہا ہے کہ آزاد کشمیر خاص کر مظفرآباد ڈویژن کے طول وعرض میں وادی لیپا، وادی نیلم، دھیر کوٹ کا کچھ علاقہ اور پورا مظفرآباد شہر اس پوری آبادی کا انحصار دو ہسپتالوں پہ ہے سی ایم ایچ مظفرآباد اور اور عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہیں. یاد رہے کہ نوے فیصد لوگوں کا رخ ان دونوں ہسپتالوں کی طرف ہوتا ہے. سی ایم ایچ مظفرآباد میں لوگ ہیلتھ کارڈ سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں. لیکن بدقسمتی سے امبور ہسپتال جو ایک بڑا ہسپتال ہے اور معقول تعداد میں بیڈز دستیاب ہیں اور ہر طرح کا ڈاکٹر بھی دستیاب ہے.لیکن صحت سہولت کارڈ جس سے ایک عام آدمی، ایک غریب آدمی، جسکے پاس کھانا کھانے کیلئے پیسے نہیں، ہسپتال آنے کیلئے کرایا نہیں ہے، خدانخواستہ بیماری کے دوران ہسپتال میں وفات ہوجاتی ہے تو واپس گھر جنازہ لے جانے کے لیےایمبولینس کا کرایہ نہیں ہے. اس تمام صورتحال میں صحت سہولت کارڈ ایک معجزے سے کم نہیں ہے، یہ ایک غریب لاچار، بے بس کیلئے زندگی کی امید ہے، ایک سانس اکھڑے ہوے مر یض کیلئے، آکسیجن، ایک صحرا میں بھٹکے ہوے کیلے پانی سے کم نہیں ہے. کبھی کبھی ایسا وقت بھی لوگ دیکھتے ہیں کہ وہ غربت کی وجہ سے علاج کے بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں، یا انکو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ دوائی کھائیں یا کھانا کھائیں. اس ساری صورتحال میں جب حکومت کی طرف سے ایک سہولت دی گئی ہے اسی عوام کے ٹیکس سے تو اس میں رکاوٹ کون ہے، اسکا زمہ دار کون ہے، جو عوام کو انکا حق نہیں مل رہا تو اس کا زمہ دار کون ہے. لوگ غربت کی وجہ سے اپنے جانور اور زمینں بیچتے ہیں، وہ بیماری کی وجہ سے سارا پیسہ انکے علاج پہ لگ جاتا ہے اور انکے بچوں کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے تو اس کا زمدار کون ہے.ہسپتال کی انتظامیہ نے آج تک ہیلتھ کارڈ کیلئے اقدامات کیوں نہیں کیے. جبک پورے ملک میں ایک بھی ہسپتال بغیر صحت سہولت کارڈ کے نہیں ہے تو امبور ہسپتال میں کیوں نہیں، یہاں زمہ داروں کا تعین کون کرے گا، اور سزا کون دے گا. ہم عوام کی طرف سے اور خود پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ امبور ہسپتال میں صحت سہولت کارڈ کیلئے فوراً اقدامات کیے جائیں تا کہ غریب عوام اس سے مستفید ہوں، اور انکے پیارے موت کے منہ جانے سے بچ جائیں.امبور ہسپتال میں فوراً سی ٹی سکین، ایم آر آئی، لگاے جاءیں اور انتہا ہی نگہداشت کے وارڈ میں ونٹیلیٹر سی ایکوپڈ کیا جاے اور فنکشنل کیاجاے. دوسری طرف ۔۔۔اس وقت سی ایم ایچ میں عوام کی ایک بڑی تعداد صحت کارڈ سے مستفید ھو رہی ھے اور اس سے کروڑوں روپے کا ریونیو حاصل کیا جارھاہے ۔امبور ہسپتال میں صحت سہولت کارڈ کے اجراء سے دارلحکومت کی عوام کی ایک بڑی تعداد مستفید ھو سکتی ھے اور اس سے نہ صرف دیگر ھسپتالوں سے لوڈ کم ھوگا بلکہ اقدام سے معقول ریونیو بھی حاصل کیا جس سکتا ھے ۔یاد رھے کوٹلی کے ڈسٹرکٹ ھسپتال نے اس سہولت سے ریونیو حاصل کرکے سٹی سیکن مشین سمیت عوام کو دیگر سہولیات فراہم کیں لیکن بدقسمتی سے دارلحکومت کے اس اہم ھسپتال میں خدمات سرانجام دینے والے آفیسران کیا کر رہے ہیں. وہ اپنے زمہ داری سے کیوں غفلت برت رہے ہیں. اس خوالے سے مظفراباد کے عوامی حلقوں اور سول سوساٸٹی نے وزیراعظم اور
. وزیر صحت سے اس اہم معاملہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں