بینک آف انگلینڈ نے شرح سود بڑھا کر 4 فیصد کر دی ہے۔ بینک آف انگلینڈ شرح سود میں یہ اضافہ جمعرات 5 نومبر 2026 کو کیا گیا۔ یہ 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ اس سے قبل شرح سود 3.75 فیصد تھی۔ اب اس میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ بینک آف انگلینڈ برطانیہ کا مرکزی بینک ہے۔ شرح سود میں اضافے سے قرضے مہنگے ہو جاتے ہیں۔
بینک آف انگلینڈ شرح سود کے فیصلے کی تفصیل
بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 8 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے یہ فیصلہ کیا۔ کمیٹی کے 9 ارکان میں سے 8 نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ کیتھرین مین نے اختلاف کیا۔ وہ شرح سود 4.25 فیصد کرنا چاہتی تھیں۔ یہ اضافہ اگست 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ اس سے قبل بینک مسلسل شرح سود میں کمی کر رہا تھا۔ یہ فیصلہ بینک کی شرح سود کو 4 فیصد تک لے گیا۔
اضافے کی وجوہات
اس اضافے کی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تنازع نے توانائی کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔ اس سے برطانیہ میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔ بینک مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود بڑھاتا ہے۔ ستمبر میں برطانیہ میں مہنگائی کی شرح 3.5 فیصد رہی۔ بینک کا اندازہ ہے کہ 2027 کے وسط تک مہنگائی 5 فیصد تک جا سکتی ہے۔
پاؤنڈ اور اگلا فیصلہ
اعلان کے بعد پاؤنڈ کی قیمت تقریباً 1.3471 ڈالر رہی۔ پاؤنڈ کی قیمت میں اعلان کے بعد زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ بینک آف انگلینڈ شرح سود پر اگلا فیصلہ 17 دسمبر 2026 کو ہوگا۔ اس وقت شرح سود پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ بینک ہر چند ہفتوں بعد شرح سود پر فیصلہ کرتا ہے۔ سرمایہ کار اب اگلے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ شرح سود میں اضافے کا اثر رہن اور قرضوں پر پڑتا ہے۔
مزید کاروباری خبریں پڑھیں: ڈالر کا ریٹ 5 نومبر 2026۔ تفصیلی خبر کے لیے نارتھ لینڈ نیوز ریڈیو کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔