ڈیلی دومیل نیوز.مظفرآباد (نمائندہ خصوصی) پاسبانِ وطن پاکستان کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور اداروں کی نااہلی کے باعث آج ریاستی مہاجرین اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سینکڑوں خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ سراپا احتجاج ہیں مگر حکومتی مشینری خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی مہاجرین ہیں جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے ناقابلِ فراموش قربانیاں دیں، اپنے گھر، زمینیں اور اثاثے چھوڑے اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ لیکن آج انہی کے وارث اپنی بقا کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ متعلقہ ادارے صرف فائلیں گھمانے تک محدود ہیں جبکہ زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں۔
طاہر کھوکھر نے کہا کہ یہ صرف معاشی یا سماجی بحران نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران بھی ہے کہ قربانی دینے والوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشمیری مہاجرین آزاد کشمیر میں محفوظ اور باوقار زندگی نہیں گزار رہے تو یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر بھارت کے پروپیگنڈے کو تقویت دے سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت پاکستان، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا کہ:
ہر کشمیری مہاجر کو کم از کم 100 کنال اراضی الاٹ کی جائے تاکہ وہ مستقل بنیادوں پر آباد ہو سکیں۔
مہاجرین کو مکمل مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔
مہاجرین کا کوٹہ فوری بحال کیا جائے۔
سابق وزیر نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ “ہم مہاجرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے مسائل کو فوری طور پر حل کرے۔”