73

ڈاکٹر شگفتہ اشرف کا اقوام متحدہ فورم سے خطاب، کشمیری خواتین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ

مظفرآباد (نامہ نگار) — خواتین کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے حوالے سے منعقدہ ایک بین الاقوامی این جی او فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شگفتہ اشرف نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ یہ فورم اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس کے موقع پر اوکا پروس انٹرنیشنل کی جانب سے منعقد کیا گیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر شگفتہ اشرف نے کہا کہ وہ “ان بے شمار خاموش عورتوں کے درد کو اپنے دل میں سمیٹے ہوئے ہیں جن کی چیخیں گولیوں کی گرج میں دب جاتی ہیں۔” انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین “جنگ کا دانستہ ہدف” ہیں اور جنسی تشدد کو “طاقت کے ہتھیار کے طور پر منظم طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔”

انہوں نے کشمیری خواتین کی جرات و استقامت کو بھی سراہا جو کرفیو کے سائے میں اپنی ثقافتی وراثت کو زندہ رکھنے کے لیے لوریوں، کشیدہ کاری اور خفیہ محفلوں کے ذریعے جدوجہد کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر اشرف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ:

جنسی تشدد کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کا فوری خاتمہ کیا جائے،

مجرموں کو بین الاقوامی قانون کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،

اور کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت کے اظہار کا موقع فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ “پائیدار امن ٹوٹے ہوئے جسموں پر تعمیر نہیں کیا جا سکتا” اور زور دیا کہ کشمیری خواتین کو بااختیار بنانا ہی ثقافتی وراثت کے تحفظ اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے قیام کی ضمانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں