مظفرآباد (ڈیلی دومیل نیوز) پاسبانِ حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ سے متعلق توسیع پسندانہ اور اشتعال انگیز بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجی سربراہ جنرل دویدی اور جنرل کٹاریہ کے حالیہ بیانات کو بھی ”ناکام عسکری سوچ کا تسلسل” قرار دیا۔عزیر احمد غزالی نے اپنے بیان میں کہا کہ ”معرکہ بنیانِ مرصوص میں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی وزیر دفاع اور فوجی قیادت شکست خوردہ بیانات کے ذریعے اپنی عوام کو بہلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط دفاع رکھنے والا ملک ہے جو اپنے جغرافیے کی مکمل حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔”انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کو بھارت کا حصہ قرار دینے والا غیر ذمہ دارانہ دعویٰ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ہندوتوا ذہنیت کے اس توسیع پسندانہ ایجنڈے کی عکاسی بھی کرتا ہے جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔چیئرمین پاسبانِ حریت نے دفترِ خارجہ پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قیادت کے ایسے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے، نئے تنازعات کو جنم دینے اور امن کے ماحول کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش ہیں۔عزیر احمد غزالی نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی انتشار، اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم، مذہبی انتہا پسندی اور جبر کی پالیسیوں پر توجہ دے، بجائے اس کے کہ جھوٹے تاریخی بیانیوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے مثبت، ذمہ دارانہ اور اصولی کردار ادا کیا ہے، جس پر کشمیری عوام پاکستان کے شکر گزار ہیں۔چیئرمین پاسبانِ حریت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی قیادت کے جنگجو بیانات اور توسیع پسندانہ عزائم کا فوری نوٹس لے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کو یقینی بنائے۔
48
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل