90

خود احتسابی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے جعلی ڈگری کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف فیصلہ سنا دیا گیا

ڈیلی دومیل نیوز،افواج پاکستان کے بعد عدلیہ نے بھی خود احتسابی کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے جعلی ڈگری کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیناتی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں اس عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ثابت ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ دورانِ سروس قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے۔

جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سنایا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے پاس ایل ایل بی کی درست اور مستند ڈگری موجود نہیں تھی، جو جج کے عہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ میں شفافیت اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے جعلی تعلیمی اسناد رکھنے والا شخص اس منصب پر فائز نہیں رہ سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں