ڈیلی دومیل نیوز.نیویارک (نمائندہ خصوصی) – 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے خلاف نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر کشمیری امریکن کمیونٹی نے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں خواتین، بچے، بزرگ، پاکستانی، بنگالی اور دیگر امن پسند شہریوں نے بھی شرکت کی۔
ریلی کا اہتمام کشمیر امریکن کمیونٹی آف نیویارک میٹروپولیٹن ایریا نے کیا، جس کا مقصد بھارتی قبضے، آبادیاتی تبدیلیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانا تھا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا:
“کشمیر پر بھارتی قبضہ نامنظور”
“آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی ایک مذاق ہے”
“نسلی تطہیر بند کرو”
“استصواب رائے ہمارا حق ہے”
“بھارت تمام سیاسی قیدی رہا کرے”
“کشمیر کو آزاد کرو – غلامی کوئی آپشن نہیں”
ڈاکٹر غلام نبی فائی کا خطاب
ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی کشمیریوں کے آئینی و انسانی حقوق پر حملہ ہے، جو اقوام متحدہ کی قرارداد 91 (1951) اور 122 (1957) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کی بھارت نوازی پر بھی سوال اٹھایا۔
دیگر مقررین کا مؤقف
جے کے ایل ایف کے ترجمان راجہ مختار محمد، چودھری رفاقت صغیر خان، سردار تاج خان، ساجد سوار، میجر عارف نوید، ایڈووکیٹ امتیاز خان، محترمہ صفورا وسیم، عطاالظفر، صغیر خان، شاہد کامریڈ، آمنہ تاج اور دیگر مقررین نے مظاہرے سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ:
بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، طلبہ و طالبات کو قید میں ڈال کر آزادی کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
بھارت میں جمہوریت ایک سراب ہے، حقیقت میں وہ آبادکار نوآبادیات کو فروغ دے رہا ہے۔
تحریک آزادی کشمیریوں کا بنیادی حق ہے
مقررین نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر دہشت گردی نہیں بلکہ حقِ خود ارادیت کی قانونی تحریک ہے۔ انہوں نے یاسین ملک، آسیہ اندرابی، شبیر شاہ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اقوام عالم سے پرزور اپیل
مقررین نے اقوام متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا کی امن پسند اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔