نئی دہلی — دہلی یونیورسٹی (DU) میں ایک افسوسناک اور حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک طالبہ نے اپنے پروفیسر پر ذہنی ہراسانی اور دھمکیاں دینے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے اس معاملے کو مزید گرما دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، طالبہ کا دعویٰ ہے کہ پروفیسر نے اسے انسٹاگرام ریلز (Reels) بنانے پر ہراساں کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے ویڈیوز ڈیلیٹ نہ کیں تو اس کا کیریئر “برباد” کر دیا جائے گا۔

معاملہ کیا ہے؟ (The Incident)
یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں طالبہ اور پروفیسر کے درمیان تلخ کلامی دیکھی جا سکتی ہے۔ طالبہ کا الزام ہے کہ پروفیسر نے اس کے ذاتی سوشل میڈیا مواد (Content) پر اعتراض اٹھایا اور اسے کلاس یا ڈیپارٹمنٹ میں نشانہ بنایا۔
طالبہ کے مطابق، پروفیسر نے مبینہ طور پر کہا:
“ریلز ڈیلیٹ کر دو ورنہ ہم تمہیں برباد کر دیں گے (We will ruin you)۔”
انتظامیہ اور سوشل میڈیا کا ردعمل
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، طلباء تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
طلباء کا موقف: طلباء کا کہنا ہے کہ ذاتی زندگی اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کسی بھی طالب علم کا ذاتی حق ہیں، اور اس بنیاد پر تعلیمی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا “اختیارات کا ناجائز استعمال” ہے۔
تحقیقات کا مطالبہ: یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور قصوروار کے خلاف کارروائی کرے۔
فی الحال یونیورسٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں “پرسنل فریڈم بمقابلہ ڈسپلن” کی بحث کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔