ہانگ کانگ — ہانگ کانگ کی ہائی کورٹ نے جمہوریت پسند میڈیا ٹائیکون اور اخبار ‘ایپل ڈیلی’ کے بانی جمی لائی (Jimmy Lai) کو قومی سلامتی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ پیر کے روز (15 دسمبر 2025) سنایا جانے والا یہ فیصلہ چین کی جانب سے ہانگ کانگ پر نافذ کردہ نیشنل سیکیورٹی لا کے تحت سب سے ہائی پروفائل کیس سمجھا جا رہا ہے۔
تین ججوں پر مشتمل پینل نے 78 سالہ جمی لائی کو “غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ سازش” اور “غداری پر مبنی مواد شائع کرنے” کے الزامات میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔
عدالتی فیصلہ اور الزامات
جسٹس ایستھر ٹوہ (Esther Toh) کی سربراہی میں ججز نے اپنے 855 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ جمی لائی ان تمام سازشوں کے “ماسٹر مائنڈ” تھے اور انہوں نے اپنی میڈیا ایمپائر کو چین کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔
الزامات: ان پر غیر ملکی طاقتوں (خاص طور پر امریکہ) کو چین اور ہانگ کانگ پر پابندیاں لگانے کے لیے اکسانے کا الزام ثابت ہوا۔
سزا کا امکان: اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔ سزا سنانے کے لیے اگلی سماعت 12 جنوری 2026 کو ہوگی۔
صحت کی تشویشناک صورتحال
جمی لائی گزشتہ 5 سال سے جیل میں ہیں اور زیادہ تر وقت تنہائی (Solitary Confinement) میں گزارا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور وکلاء کے مطابق، ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے۔ وہ ذیابیطس اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور دورانِ سماعت بھی وہ کافی کمزور دکھائی دیے۔
عالمی ردعمل
اس فیصلے پر دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے:
امریکہ اور برطانیہ: مغربی ممالک نے اس ٹرائل کو “سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے جمی لائی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیمیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اسے “پریس کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل” قرار دیا ہے۔
چین کا موقف: بیجنگ اور ہانگ کانگ حکومت نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔