87

امریکا کا انڈیا فرسٹ دور ختم مزید جانیئے

ڈیلی دومیل نیوز،امریکا کے پالیسی ساز جریدے ’واشنگٹن ٹائمز‘ نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی خارجہ پالیسی ایک غیر متوقع موڑ اختیار کر چکی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ’انڈیا فرسٹ‘ حکمتِ عملی بتدریج اختتام کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پاکستان تیزی سے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

واشنگٹن ٹائمز نے پیر کو شائع ہونے والے اپنے خصوصی مضمون میں لکھا ہے کہ جنوری کے اوائل تک پاکستان اور امریکا کے سفارتی اور قومی سلامتی تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔ اسلام آباد کو طالبان کے قریب، سیاسی طور پر غیر یقینی اور سفارتی طور پر محدود سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ سیلاب کے بعد معیشت میں بہتری اور جی ڈی پی میں اضافہ ہوا، تاہم پاکستان اب بھی بیرونی مالی معاونت پر انحصار کر رہا تھا۔ واشنگٹن میں یہ تاثر موجود تھا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت محدود ہے اور اس کے سیکیورٹی ادارے انسداد دہشتگردی کے وعدوں میں غیر مستقل رہے ہیں۔

جریدے کے مطابق اس مرحلے پر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کو گزشتہ دہائیوں کے شدید ترین قومی سلامتی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم 2025 کے اختتام تک صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ پاکستان ایک الگ تھلگ ملک سے ایک فعال شراکت دار کے طور پر سامنے آیا اور چند ہی ماہ میں اس کی عالمی ساکھ میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق ابتدائی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر پاکستان کو چین کے قریبی اتحادی کے طور پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ عمومی توقع یہ تھی کہ امریکا بھارت پر مزید انحصار کرے گا، کوآڈ کو مضبوط کرے گا اور اسلام آباد کو پس منظر میں دھکیل دے گا۔ تاہم اسی دوران بھارت کی اندرونی سیاست، اکثریتی رجحانات، شہری آزادیوں پر قدغنوں، عسکری کارکردگی اور سخت سفارتی رویے پر واشنگٹن میں سوالات اٹھنے لگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں