91

پاکستانی دفاعی نظام دنیاکی توجہ کا مرکز بن گیا

اسلام آباد(ڈیلی دومیل نیوز)معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کی دفاعی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی عالمی سطح پر پذیرائی بڑ ھ گئی ۔

عالمی خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق گزشتہ سال بھارت کےساتھ تنازعہ کے بعد پاکستانی جیٹ طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں نے جس طرح اپنے ٹارگٹ کو کامیاب نشانہ بنایا اس کے بعد عالمی سطح پر پاکستانی جٹ طیارے اور ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ ہوگیا اور پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 13 ممالک نے جٹ طیاروں، ہتھیاروں کی خرداری کیلئے پاکستان سے رابطہ کیا۔ جن میں سے چھ سے آٹھ ترقی یافتہ ممالک شامل ہیں جن میں چین کے ساتھ مشترکہ طور پر بنائے گئے JF-17 طیاروں کے ساتھ ساتھ تربیتی طیاروں، ڈرونز اور ہتھیاروں کے نظام کے سودے شامل ہیں۔

پاکستان کی فوج اور وزارت دفاع نے کسی بھی معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن ملک کے دفاعی پیداوار کے وزیر نے تصدیق کی کہ کئی ممالک جیٹ طیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یوکرین میں جنگ اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد ممالک نئی سپلائی چینز تلاش کر رہے ہیں۔

مئی میں بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر فضائی جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستان کے ہتھیار ایک قابل عمل متبادل بن چکے ہیں جس میں پاکستانی فضائیہ کے دستے نے JF-17 طیاروں کو چینی ساختہ J-10 کے ساتھ ساتھ اڑایا۔

رائٹرز نے دفاعی معاہدوں سے متعلق چھ ذرائع سے بات کی، فضائیہ کے تین ریٹائرڈ اہلکاروں، اور ایک درجن تجزیہ کار جنہوں نے پاکستان کی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی صنعت کے بارے میں بصیرت فراہم کی،۔

وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے رائٹرز کو بتایا کہ کسی بھی مذاکرات کو “محفوظ راز” قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ “بہت سے سوالات ہیں لیکن ہم بات چیت کر رہے ہیں،” انہوں نے مزید کہا کہ فضائیہ کے سازوسامان، گولہ بارود اور تربیت میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں