کراکو فائرنگ نے پولینڈ کے تاریخی شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہفتے کے روز 7 نومبر 2026 کو دوپہر تقریباً 3 بجے مین مارکیٹ اسکوائر میں فائرنگ ہوئی۔ یہ علاقہ کراکو کے یونیسکو کی فہرست میں شامل پرانے شہر کا حصہ ہے۔ حملہ آور نے کار سے اے آر 15 رائفل سے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس واقعے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ 16 افراد زخمی ہوئے۔
کراکو فائرنگ میں ہلاک اور زخمی افراد
ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ ان میں تین پولش شہری اور ایک برطانوی شہری شامل ہے۔ دو افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ زخمیوں میں دو پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ حملہ آور خود بھی زخمی ہوا۔ زخمیوں میں پانچ غیر ملکی شہری بھی ہیں۔ ان کا تعلق آسٹریا، جرمنی، پرتگال، روس اور برطانیہ سے ہے۔
حملہ آور کی گرفتاری اور پس منظر
مشتبہ حملہ آور 24 سالہ پولش شہری ہے۔ کچھ رپورٹس میں اس کی عمر 25 سال بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے اکیلے کارروائی کی۔ پولیس نے اسے گولی مار کر گرفتار کر لیا۔ وہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ وزیر داخلہ مارسن کیروینسکی کے مطابق حملہ آور انتہا پسند دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا۔ وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔
حملہ آور کے گھر سے مزید لاشیں ملیں
پولیس کو حملہ آور کے گھر سے مزید تین لاشیں ملیں۔ ان میں دو خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔ یہ گھر اوستروویتس شوئنتوکرزسکی میں واقع ہے۔ یہ شہر کراکو سے تقریباً 150 سے 200 کلومیٹر دور ہے۔ صدر کرول ناوروتسکی 8 اور 9 نومبر کو قومی سوگ کا اعلان کریں گے۔ کراکو شہر میں 8 سے 11 نومبر تک سوگ منایا جائے گا۔
پولینڈ میں اس واقعے کے بعد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ عوام نے ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائیں کیں۔ مزید تفصیل کے لیے غیر ملکی خبر ملاحظہ کریں۔ دیگر عالمی خبریں بھی پڑھیں: پیراگوئے کے صدر کی مواخذہ اور ٹرمپ کی کابینہ میں تبدیلی۔