آئزن کوٹ حکومت بنانے کا مینڈیٹ مل گیا ہے۔ اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دے دیا۔ یہ اعلان ہفتے کی شام 7 نومبر 2026 کو کیا گیا۔ رسمی مینڈیٹ کی تقریب اتوار 8 نومبر کو شام 5 بجے ہوگی۔ یہ تقریب یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگی۔ آئزن کوٹ سابق فوجی سربراہ اور وسط پسند یشار پارٹی کے رہنما ہیں۔ وہ نیتن یاہو کے مخالف اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں۔
آئزن کوٹ حکومت کے لیے 67 ارکان کی حمایت
آئزن کوٹ کو 120 رکنی کنیسٹ میں سے 67 ارکان کی سفارش ملی۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو 46 ارکان کی سفارش ملی۔ انتہا پسند قدامت پسند جماعت یو ٹی جے کے 7 ارکان نے ووٹ نہیں دیا۔ 27 اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو بلاک نے 53 نشستیں حاصل کیں۔ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ کسی بھی فریق کے پاس 61 نشستوں کی اکثریت نہیں ہے۔
67 سفارشات کا مطلب اتحاد نہیں
67 سفارشات کا مطلب یہ نہیں کہ اتحاد تیار ہے۔ ان سفارشات میں عرب جماعتیں بھی شامل ہیں۔ جوائنٹ لسٹ کے 12 اور راعم کے 7 ارکان شامل ہیں۔ آئزن کوٹ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ان جماعتوں کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے۔ آئزن کوٹ کے پاس 61 نشستیں جمع کرنے کے لیے 28 دن ہیں۔ مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہے۔ اگر وہ ناکام رہے تو صدر کسی اور کو ذمہ داری دے سکتے ہیں۔
نیتن یاہو تاحال وزیر اعظم رہیں گے
نیتن یاہو اس وقت تک وزیر اعظم رہیں گے جب تک نئی حکومت اعتماد کا ووٹ نہیں جیت لیتی۔ آئزن کوٹ نے ‘قومی ہنگامی حکومت’ کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کے تحت کسی بھی گردش سے انکار کر دیا ہے۔ آئندہ دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سیاسی مبصرین کی نظریں کنیسٹ پر لگی ہوئی ہیں۔
اسرائیل کی سیاست سے متعلق دیگر خبریں بھی پڑھیں۔ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کی معلومات پر 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے موقف کی خبر بھی پڑھیں۔ مزید معلومات کے لیے ٹی بی ایس نیوز کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔