اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ سفارتی بیان متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ سلامتی کونسل پاکستان بیان جمعرات 5 نومبر 2026 کو اتفاق رائے سے منظور ہوا۔ یہ بیان “جنگ کے دوران سفارتکاری کا کردار” کے موضوع پر ہے۔ پاکستان نے یہ پہل سلامتی کونسل میں پیش کی تھی۔ سلامتی کونسل کی جانب سے کسی بیان کی متفقہ منظوری ایک اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کونسل کے تمام ارکان اس موضوع پر ایک موقف رکھتے ہیں۔
سلامتی کونسل پاکستان بیان کی تفصیل
یہ ایک صدارتی بیان ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جاری جنگ کے دوران بھی سفارتکاری اور مذاکرات جاری رہنے چاہئیں۔ بیان میں فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں۔ جنگ کے دوران بھی رابطے کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس سے انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔ فریقوں کو چاہیے کہ وہ سفارتی راستے کو ترجیح دیں۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس منظوری کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسے پاکستان کی سفارتکاری کی کامیابی قرار دیا۔
قرارداد 2788 اور پاکستان کی صدارت
یہ بیان قرارداد 2788 (2025) کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ وہ قرارداد جولائی 2025 میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران منظور ہوئی تھی۔ اس قرارداد میں بھی تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا تھا۔ نئے بیان کو اسی سلسلے کی اگلی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی تھی۔ اس دوران قرارداد 2788 منظور ہوئی۔ اس قرارداد نے سفارتکاری کے کردار کو اجاگر کیا تھا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر کا موقف
منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سید حیدر شاہ نے پریس سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران بھی بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ سفارتی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات سے ہی تنازعات کا مستقل حل نکلتا ہے۔
سلامتی کونسل پاکستان بیان کی منظوری کو پاکستان کی سفارتکاری کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام ارکان نے اس پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے سلامتی کونسل میں اپنی رکنیت کے دوران کئی اہم امور اٹھائے ہیں۔ یہ بیان ان کوششوں کا حصہ ہے۔ مزید عالمی خبریں پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی۔ تفصیلی خبر کے لیے خبر وائر کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔