6 نومبر کو یوم شہدائے جموں منایا جائے گا۔ اعلان 3 نومبر کو کیا گیا۔ پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر اس دن کو منائے گی۔ ہدایت پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دی۔ سیاسی امور کی چیئرپرسن فریال تالپور کی ہدایت بھی شامل ہے۔ دن ریاست بھر میں منایا جائے گا۔ بیرون ملک بھی تقریبات ہوں گی۔ مقصد 6 نومبر 1947 کے شہداء کو یاد کرنا ہے۔ پارٹی کے مطابق اس دن جموں میں تقریباً 3 لاکھ افراد شہید ہوئے۔ وضاحت ضروری ہے کہ یہ عدد پارٹی کی بیان کردہ یاد ہے۔ آزادانہ تصدیق شدہ اعداد یہاں نہیں دیا گیا۔ اس دن کو پارٹی اہم تاریخی دن قرار دیتی ہے۔
ریلیاں مختلف مقامات پر نکالی جائیں گی۔ جلسے بھی منعقد ہوں گے۔ جلوس بھی نکالے جائیں گے۔ کاروباری مراکز اس روز بند رہیں گے۔ مرکزی اجتماع مظفرآباد میں ہوگا۔ مقام پرانا سیکریٹریٹ بتایا گیا ہے۔ اجتماع کے بعد مارچ کیا جائے گا۔ مارچ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے دفتر تک ہوگا۔ یادداشت وہاں پیش کی جائے گی۔ یادداشت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام ہوگی۔ آزاد کشمیر سے متعلق ایک اور خبر یہاں پڑھیں۔ شرکاء کی تعداد کا اندازہ بعد میں سامنے آئے گا۔
یوم شہدائے جموں کی تاریخی یاد
تاریخ اس دن کو جموں کے شہداء کی یاد سے جوڑتی ہے۔ پارٹی اسے ریاست کی تاریخ کا اہم دن قرار دیتی ہے۔ خاندانوں کی قربانیاں اس موقع پر یاد کی جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو تاریخ سے آگاہ کرنا بھی مقصد ہے۔ تقریبات میں مقررین تاریخ پر روشنی ڈالیں گے۔ شرکاء شہداء کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ ماحول اس روز سنجیدہ اور پُرامن رکھا جائے گا۔ تنظیموں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
مظفرآباد میں مرکزی اجتماع اور مارچ
مرکزی اجتماع کی تیاریاں مظفرآباد میں کی جا رہی ہیں۔ کارکنوں کو وقت پر پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اجتماع کے بعد مارچ منظم انداز میں نکالا جائے گا۔ مارچ کا راستہ پہلے سے طے کیا گیا ہے۔ یادداشت پیش کرنے کا مقصد عالمی توجہ دلانا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے بیرونی رپورٹ ملاحظہ کریں۔ خبر یہ اعلان اور پروگرام تک محدود ہے۔ حتمی تفصیل 6 نومبر کے اجتماع کے بعد سامنے آئے گی۔