مکہ پر ڈرون حملہ، پس منظر اور نتائج،تحریر،چودھری خادم حسین

15

ڈیلی دومیل نیوز،سعودی عرب حکام کے مطابق یمن کے حوثیوں نے دوسری بار مکہ پر ڈرون حملہ کیا۔ یہ ڈرون مکہ کے مغربی حصے میں دفاعی اہلکاروں نے تباہ کر دیا۔ جبکہ پہلے حملے میں آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا تھا۔ اس نقصان کے بعد سعودی حکومت کی طرف سے تیل کی بہمرسانی روک دی گئی اور مرمت کا کام شروع ہے۔ اس میں چند روز لگیں گے۔ آرامکو کی طرف سے تیل فراہم کرنے کا سلسلہ رُک جانے سے عالمی مارکیٹ پر مزید بوجھ آ پڑا ہے۔ یورپی ممالک بھی پریشان ہو گئے ہیں۔

تیل کی قیمتوں پر اثر

سعودی دفاعی افواج کی طرف سے ان حملوں کا جواب دینے کا اعلان کیا گیا۔ جبکہ باغی حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے فضائی حملے کئے ہیں۔ ایران، امریکہ جنگ کے باعث آبناء ہرمز کی بندش کے بعد۔ حوثیوں کی طرف سے حملے شروع کر دینے سے باب المندب بھی قریباً بند ہے۔ اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت پھر سے ہل کر رہ گئی ہے۔ اور آئل کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دیگر ممالک تو متاثر ہوئے، تاہم پاکستان پر بڑا بوجھ پڑا ہے اور یہاں ہر روز نرخ بڑھائے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں

آج(جمعرات) پٹرول کا نرخ 293 روپے50پیسے فی لیٹر ہے۔ شہریوں کو خوف ہے کہ آج کی شب مزید اضافہ ہوا تو پٹرول چارسو روپے فی لیٹر ہو جائے گا۔ جبکہ ڈیزل کے نرخ420سے425 روپے فی لیٹر تک متوقع ہیں۔ اس صورتحال میں وفاقی حکومت نے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل والوں کو سبسڈی دی ہے۔ مگر یہ سبسڈی متاثرین تک پہنچنے سے پہلے ہی غیر موثر ہو گئی ہے۔ اب تک تو رجسٹریشن کے عمل مکمل نہیں ہوئے۔ اکثر پٹرول پمپ والے پٹرول دینے سے انکاری ہیں۔ آرامکو کی طرف سے سپلائی نہ ہونے سے آرامکو کے پٹرول پمپ بند کر دیئے گئے ہیں۔

ڈیلرز کا احتجاج

ادھر پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے احتجاج کیا گیا ہے۔ کہ سبسڈی کے ذریعے پٹرول پمپوں کو نئی مشکل میں ڈالا گیا ہے۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین سے وہ پہلے ہی مشکل میں مبتلا ہیں۔ اور یہ مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ بہتر ہے کہ حکومت یہ سبسڈی براہِ راست دیکر تیل سستا کر دے۔ اور روز کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا سلسلہ ختم کر کے سابقہ پندرہ روزہ طریق بحال کیا جائے۔

مسلم دنیا میں تشویش

مکہ میں ڈرون حملہ سے مسلم دنیا میں شدید تشویش پھیل گئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف شریف نے بڑے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے بھی کر رہے ہیں۔ مکہ پر ڈرون حملہ کے وقت امریکہ اور حوثیوں کے درمیان اومان میں مذاکرات ہو رہے تھے۔ اس سے قبل ٹرمپ کے بقول ان کے ”بہترین دوست“ محمد بن سلمان نے ان سے دو بار بات کی۔ حوثیوں کی جارحیت کے حوالے سے یہ بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے حوثیوں پر فضائی حملوں کے درخواست کی۔ مگر انہوں (ٹرمپ) نے جواب میں انکار کر دیا۔ اور بتایا کہ حوثی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کے بعد ہی انہوں نے امریکی وفد کو حوثیوں سے ملاقات کیلئے بھیجا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کردار

قارئین! حالاتِ حاضرہ سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بڑی عیاری(ہوشیاری نہیں) سے یہ محاذ کھلوایا ہے۔ اور یہ احساس اجاگر کیا کہ وہ (ٹرمپ) ایسے بھی دنیا کی معیشت سے کھیل سکتے ہیں۔ کہ وہ تو روس اور چین کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک سے بھی خفا ہیں۔ اپنے ہمسائے کینیڈا کو بھی دبا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ وینزویلا کا حوالے دیتے ہوئے وہ آبناء ہرمز پر قبضہ کیلئے ایرانی جزیروں پر فوج کشی کر کے قبضے کا عندیہ دیتے رہتے ہیں۔

سہ ملکی دفاعی معاہدہ

حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے ماہرین کی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اور حال ہی میں سہ ملکی معاہدہ کا ذکر کر کے جلنے والے ممالک کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ بار بار یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ اور اب مکہ پر حملوں سے یہ وقت آ چکا ہے کہ سہ فریقی قیادت غور کرے۔ کہ اس صورتحال میں معاہدے پر عمل کی صورت کیا ہو سکتی ہے۔ حوثیوں کی طرف سے ”سیز فائر“ کے کوئی آثار نہیں، جبکہ ان کو امریکہ سے بھی خطرہ نہیں۔ جغرافیائی حیثیت جاننے والے ماہرین کا کہنا ہے۔ حوثی یمن کے جس علاقے پر قابض ہیں وہ دشوار گذار پہاڑی سلسلہ ہے۔ اور امریکہ کچھ عرصہ قبل یہاں بمباری کر کے اپنے اسلحہ کا نقصان کر چکا ہوا ہے۔

دجالی قوتیں اور مسلمان

یہ تو وہ حالات ہیں جو ظاہر ہیں اور دنیا میں ان پر بات ہو رہی ہے۔ میں اس حوالے سے ایک بار پھر یاد دِلانا چاہتا ہوں۔ کہ دجالی قوتیں برسر پیکار ہیں اور ان کا نشانہ خصوصی طور پر مسلمان ہیں۔ کوئی کہے یا نہ کہے، مانے یا نہ مانے۔ یہ جنگ اور حالات کلمہ گو ممالک کیلئے پیدا کئے جا رہے ہیں۔

ماضی کا واقعہ

اسرائیل اور امریکہ مل کر اہتمام کرتے ہیں۔ جہاں تک حوثیوں کا تعلق ہے تو مجھے1979ء یاد آ رہا ہے۔ جب ملک پر ضیاء الحق حکمران تھے، تب یمنی باشندوں نے مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور ان دِنوں تو عبادتی سلسلہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ سعودی اہلکار قبضہ نہ چھڑا سکے تو پاکستان سے کمانڈوز دستہ بھیجا گیا۔ جس نے کئی روز کی لڑائی کے بعد یہ قبضہ ختم کرایا۔ اور یوں 1979ء کو شروع ہونے والا قبضہ1980ء میں ختم ہوا۔

حوثیوں کا موقف

جہاں تک حوثیوں کا تعلق ہے تو وہ اپنے عقیدے اور مسلک کے مطابق یہ سب کر رہے ہیں۔ قارئین! اس سلسلے میں گوگل سے مدد لیں تو ان کو علم ہو جائے گا۔ یہ حضرات کس عقیدے کے مالک ہیں اور ان کا سعودی عرب سے تنازعہ پرانا ہے۔ اس لئے ان کو کوئی غرض نہیں کہ خطے میں مسلمانوں پر کیا بیت رہی ہے۔ اسرائیل کے عزائم کیا اور امریکہ کا مقصد کیا ہے۔

اتحاد کی ضرورت

یہ سب واضح ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی کوئی کوشش برداشت نہیں کی جاتی۔ اس لئے حوثیوں کے خلاف کارروائی سے انکار کیا گیا ہے اور ان سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حرمین شریفین کا تقدس سب مسلمانوں پر واجب ہے۔ اور حوثیوں نے سہ ملکی دفاعی معاہدہ کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ ایران نے حوثیوں کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ ہیں۔ اب پھر وہ وقت ہے جب مسلمانوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ اس سلسلے میں پاکستان اور ترکیے پر بھاری ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں