قاہرہ/شکاگو — 20 فروری 2026 سائنسدانوں نے صحرائے اعظم کی ریت کے نیچے ایک ایسے قدیم شکاری کے رکازات (Fossils) دریافت کیے ہیں جو زمین کے ساتھ ساتھ سمندر میں بھی یکساں مہارت سے شکار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس نئی نوع کو ‘سپائنوسورس میرابیلس’ (Spinosaurus mirabilis) کا نام دیا گیا ہے، جس کی تفصیلات حال ہی میں معروف سائنسی جریدے ‘سائنس’ (Science) میں شائع ہوئی ہیں۔
ایک اتفاقی دریافت
یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرِ رکازات پال سیرینو (Paul Sereno) اور ان کے ساتھیوں نے 2019 میں اس دور افتادہ علاقے کا رخ کیا جہاں دہائیوں سے کوئی محقق نہیں گیا تھا۔ ایک مقامی شخص کی رہنمائی میں ٹیم کو ریت میں کالے رنگ کے رکازات ملے، جو دراصل اس عظیم الجثہ ڈائنوسار کا جبڑا تھا۔
جسمانی ساخت اور نمایاں خصوصیات
سپائنوسورس میرابیلس اپنی بناوٹ کے لحاظ سے اس گروپ کے دیگر ڈائنوسارز سے مختلف ہے:
قد و قامت: اس کی اونچائی 10 سے 14 میٹر کے درمیان تھی، جو اسے اس وقت کے خطرناک ترین شکاریوں کی فہرست میں شامل کرتی ہے۔
سر کی کلغی (Crest): اس کے سر پر 50 سینٹی میٹر لمبی بلیڈ نما کلغی موجود تھی، جو غالباً چمکدار رنگ کی کیراٹین (Keratin) سے ڈھکی ہوتی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کلغی ساتھیوں کو متوجہ کرنے یا حریفوں کو ڈرانے کے کام آتی تھی۔
دانت اور ٹانگیں: اس کے مخروطی دانت اور لمبی ٹانگیں اسے زمین پر دوڑنے اور اتھلے پانی میں کھڑے ہو کر مچھلیاں پکڑنے میں مدد دیتی تھیں۔
نیم آبی شکاری: بگلے جیسا انداز
اس دریافت نے پرانے سائنسی نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ سپائنوسورڈز مکمل طور پر آبی مخلوق تھے، لیکن ایس میرابیلس کے ڈھانچے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک ‘نیم آبی’ (Semiaquatic) شکاری تھا۔ یہ جدید دور کے بگلے (Heron) کی طرح پانی میں چل کر اپنے شکار پر جھپٹتا تھا، لیکن اس کا سائز اور طاقت کسی بھی سمندری یا زمینی مخلوق کے لیے ڈراؤنا خواب تھی۔
اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کا کمال
محقق ڈینیئل وڈال (Daniel Vidal) کے مطابق، 2022 میں جب دوبارہ اس مقام کی کھدائی کی گئی تو ٹیم نے وہیں ہڈیوں کے تھری ڈی (3D) ماڈلز تیار کیے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدانوں نے کھدائی مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کہ یہ نیا ڈائنوسار دکھنے میں کیسا ہوگا۔