4

عجیب وغریب پریس کانفرنس

شوکت اقبال
پہلی انوکھی اور حیران کن بات کہ اپوزیشن متحد ہو گی ۔ پہلے یہی تمام پارٹیاں یکجا و متحد ہو کر حکومت کر رہی تھیں ، اب متحد ہوکر اپوزیشن کریں گی ۔ تین ماہ پہلے ان میں سے ایک وزیر اعظم تھا اور باقی اکثر وزیر ، پھر اکثر نے اسی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کیا اور فیصل ممتاز راٹھور کو اپنے ووٹ سے وزیراعظم بنا دیا ۔ پھر آپ حزب اختلاف میں آگئے اور آج جس کے خلاف آپ نے عدم اعتماد کیا تھا وہ آپ کے ساتھ ہے ، یعنی قابلِ اعتماد ہے اور تقریباً تین ماہ قبل جس پر اعتماد کر کے وزیراعظم بنایا اس پر عدم اعتماد کی باتیں ۔۔۔۔ حضرات گرامی ! صاحبانِ جبہ و دستار ودوامی اختیار! آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟
میرے آلے پہولے لوگو! آپ نہ پریشان ہوں ۔ ہماری سیاسی قیادت کو رمضان المبارک سے ایک دن پہلے ہی روزہ لگ گیا تھا ۔ پریشان نہ ہوں ، البتہ تھوڑا سا حیران ہونا آپ کا حق ہے ۔ پریس کانفرنس میں فرمایا گیا ، ” حکومت بجٹ سے بالا تر منصوبوں کی منظوری دے رہی ہے” حضور یہ بتائیں کہ بجٹ آپ نے یعنی آج کی اپوزیشن نے بنایا تھا اور موجودہ وزیراعظم بھی آپ نے بنایا ، اب وہ اگر اپنی مرضی سے کچھ کر رہا ہے تو اس کا اختیار ہے کہ وہ وزیراعظم ہے ۔ وہ فنڈز کس کو دے ۔۔۔۔ اپنی پارٹی ہی کے ممبران کو دے گا ، اپوزیشن کے کہنے پر فنڈز دے تو پھر بتائیں کہ حکومت اور اپوزیشن میں کیا فرق ہوگا ۔ آپ کس مقام پر کھڑے ہیں اور کیا چاہتے ہیں ، اپنے معصوم و انجان لوگوں کو بتا دیں ، ان میں آپ سے سوال پوچھنے کی جسارت نہیں ، بس آپ بتا کر ان کی حیرت رفع کر دیں ، ووٹ آپ کے ، ہمیشہ آپ کے ۔۔۔۔
میرے محترم، مگر سادہ مزاج لوگو! شاعر نے شاید ایسے ہی حالات کے بارے میں کہا تھا
” کن بے دلوں میں پھینک دیا حالات نے
آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی”
ہم سیاسی طور پر ایسے ہی بے دلوں کے حبس بے جا میں ہیں۔ ایک صاحب عالی جاہ کا ہمیشہ سے درست موقف رہا ہے کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون نہیں ، بلکہ درست سیاسی حرکیات کے اصول کے مطابق ریاست تین ہی ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے ، یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ، اور یہی ٹرائیکا کہلاتی ہے ، جس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ بہر صورت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے ۔ صحافت واقعتاً اس مفاداتی عمارت میں کہیں بھی ستون نہیں ، البتہ اس کا مقام اس کھڑکی یا روشن دان جیسا ہے جو عمارت کے مکینوں کے لیے تازہ ہوا اور روشنی کا ذریعہ بنتی ہے ۔ اس کی عدم موجودگی میں عمارت کے مکیں شاید زندہ تو رہیں مگر اندھیرے اور گھٹن میں سسکتے ہوئے ۔
بات چل رہی تھی متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس کی ۔ اولا یہ اپوزیشن عجیب کہ کبھی حکومت میں ہوتی ہے ، کبھی اپنے ووٹ سے بنائے وزیراعظم پر عدم اعتماد کرتی ہے اور پھر اپوزیشن میں آکر اپوزیشن لیڈر پر بھی عدم اعتماد کر دیتی ہے ۔ دوسرا عجیب و حیران کن پہلو دیکھیے کہ ایک پارٹی کا صدر حکومت کے خلاف پریس کانفرنس کرتا ہے اور اسی پارٹی کا جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات اپنے صدر کے اس موقف کے خلاف کھڑا ہو جاتے ہیں اور اس موقف سے کا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں ۔
صاحبانِ ذی وقار اگر جان کی امان پاؤں تو پوچھ سکتا ہوں کہ ان حالات کے باوجود آپ کہتے ہیں ” ایکشن کمیٹی کون یے اور اس کی حیثیت کیا ہے ؟ حضرات عالی جاہ ، آپ مہان ہیں۔ مگر اپنے فرمودات اور عوامل پر تھوڑا سا غور فرمائیں ۔ وہ کہیں جو اس عاجز مخلوق کی سمجھ میں آ سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں