3

ماحولیاتی بحران: جنگ کی فضا سے اٹھتے زہریلے ذرات اور انسانیت پر اس کے اثرات

[11:19 pm, 10/03/2026] Daily Domel D: تحریر: محمد بشارت مغل
تاریخ: 10 مارچ 2026
دنیا آج انسانی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ کے اثرات صرف محاذ تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ ماحول، ہوا اور انسانی صحت تک سرحدوں کے پار پہنچ رہے ہیں۔ ماحولیاتی سائنس نے برسوں سے واضح کیا ہے کہ ہوا، پانی اور موسمیاتی نظام کسی ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں ہوتے — ایک خطے میں ماحولیاتی بحران کے اثرات پورے خطے اور یہاں تک کہ دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں نے ایران کے تیل کے ذخائر، ریفائنریوں اور ایندھن کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے جس سے وسیع پیمانے پر زہریلا دھواں، سلفر کمپاؤنڈز، نائٹروجن آکسائیڈز، اور سوئٹ جیسے ذرات فضا میں چھوڑے جا رہے ہیں। اس کے نتیجے میں تیرہان اور اطراف میں کالی، آلودہ بارش بھی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بارے میں ماہرین نے ایسڈ رین (acid rain) جیسی صورت حال کے امکانات کا اظہار کیا ہے جس کے اثرات صرف مقامی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔ �
The Times
فضائی آلودگی کی عالمی حقیقت
فضائی آلودگی پہلے ہی سے دنیا بھر میں سب سے بڑے ماحولیاتی صحت کے خطرات میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، سالانہ کروڑوں افراد PM2.5 جیسے انتہائی باریک ذرات کے باعث سانس اور قلبی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں قبل از وقت اموات ہوتی ہیں۔ جنوب اور وسطی ایشیا وہ خطے ہیں جہاں اس آلودگی کے سب سے گہرے اثرات دیکھے جاتے ہیں۔ �
The Guardian
خطے کے ممالک پر اثرات
ایران — جنگ اور آلودگی کا مرکز
ایران وہ ملک ہے جہاں سب سے شدید ماحولیاتی اثرات سامنے آئے ہیں۔ تہران میں تیل کے ڈپوؤں پر حملے کے بعد:
سیاہ اور آلودہ بارش ریکارڈ ہوئی جس میں زہریلے کیمیکل موجود تھے،
لوگوں نے سانس لینے میں مشکلات کی شکایت کی،
ہوا کا معیار خطرناک حد تک خراب ہوا۔ �
The Guardian
یہ آلودگی براہِ راست انسانی صحت کو متاثر کر رہی ہے اور مستقبل میں طویل مدتی ماحولیاتی نقصان، مٹی اور پانی میں زہریلے مادوں کے جمع ہونے جیسے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔
افغانستان اور پاکستان — پڑوسی ممالک
ایران کے مغرب اور مشرق میں واقع ممالک بھی اس ماحولیاتی بحران سے محفوظ نہیں:
افغانستان ممکنہ طور پر ہوا کے ذریعے آلودہ ذرات کا پہلا پڑوسی اثر محسوس کرے گا،
پاکستان کے مغربی صوبوں میں موجود ہوا کے معیار میں بگاڑ کا خطرہ برقرار ہے، جس کے بارے میں پاکستان موسمیاتی ادارے (PMD) نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ہوائیں ایران سے زہریلے مادّے پاکستان تک پہنچا سکتی ہیں اور وہاں صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہیں۔ �
Pakistan Today +1
یہ خطے پہلے ہی فضائی آلودگی کے شدید مسائل کا شکار ہیں، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں PM2.5 کی مقدار عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے، جس سے سانس، دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ �
Dawn
گلف ممالک — پانی اور زندگانی کا بحران
مشرقِ وسطیٰ کے گلف خطے میں بعض ممالک جیسے سعودی عرب، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات اپنے پینے کے پانی کے نظاموں اور desalination plants کے ذریعے پانی فراہم کرتے ہیں۔ حالیہ حملوں کی وجہ سے بعض پانی کی پیداوار کے ذرائع کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے پانی کی فراہمی اور پینے کے پانی تک رسائی کو خطرات لاحق ہیں۔ �
AP News
انسانی صحت پر اثرات
فضائی آلودگی کے منفی اثرات صرف ماحولیاتی یا اقتصادی نہیں بلکہ انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں:
سانس کے مسائل: جیسے دمہ، برونکائٹس، اور شدید سانس کی تکالیف،
دل کی بیماریاں: فضا میں موجود زہریلے ذرات قلبی امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں،
کینسر اور طویل المدت صحت کے مسائل: خاص طور پر جب انسان روزانہ زہریلے مادّے سانس کے ذریعے داخل کرتے ہیں،
بچوں اور بزرگوں پر اثرات: سب سے زیادہ متاثر وہ طبقے ہوتے ہیں جو پہلے سے صحت کے مسائل کا شکار ہوں۔
یہ سب اثرات پہلے ہی سے ترقی پذیر ممالک میں شدید پیمانے پر دیکھے جاتے ہیں، جہاں صحت کے نظام پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔ �
The Guardian
عالمی نقطۂ نظر اور ضروری ردعمل
اقوام متحدہ نے بھی اس تشویشناک صورتحال پر ماحولیاتی نقصانات اور انسانی صحت کے خطرات پر عالمی انتباہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے فضائی، آبی اور خوراک کے نظام پر سنگین خطرات برپا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہری انفراسٹرکچر، پانی کے نظام اور صحت مراکز کو فوجی کارروائیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔ �
The New Indian Express
نتیجہ
ماحولیاتی تباہی، جنگ کی فضا سے اٹھنے والی زہریلی ہوا اور عالمی موسمیاتی نظام — یہ سب صرف ایک ملک کے اندر محدود نہیں رہتے۔ ماحولیاتی خطرات سرحدوں سے ماورا ہیں، اور اب ضروری ہے کہ ہم:
علاقائی تعاون بڑھائیں،
فضائی آلودگی کے نظاماتی جائزے کو مضبوط کریں،
عوامی صحت کی بیداری اور حفاظتی حکمت عملی تیار کریں،
بین الاقوامی معیارات کے تحت مشترکہ اقدامات کریں۔
ان خطرات کا حل صرف ایک ملک کا کام نہیں بلکہ بین الاقوامی یکجہتی، سائنس، اور پالیسی سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔null

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں