ڈیلی دومیل نیوز.مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں 21 ورکنگ صحافیوں کو ایسوسی ایٹ ممبرشپ کے نوٹیفکیشن جاری،صدر سجاد قیوم میر، نائب صدر تنویر احمد تنولی، سیکرٹری جنرل سید اشفاق حسین شاہ اور سیکرٹری اطلاعات میر بشارت حسین نے تقریب سے خطاب کیا۔مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں ایک پُروقار اور تاریخی تقریب کے دوران 21 ورکنگ صحافیوں کو ایسوسی ایٹ ممبرشپ کے نوٹیفکیشن باقاعدہ طور پر جاری کر دیے گئے۔ تقریب کی صدارت صدر مرکزی ایوانِ صحافت سجاد قیوم میر نے کی، جبکہ نائب صدر تنویر احمد تنولی، سیکرٹری جنرل سید اشفاق حسین شاہ، اور سیکرٹری اطلاعات میر بشارت حسین نے تقریب سے خصوصی خطاب کیاتقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سجاد قیوم میر نے کہا کہ ”مرکزی ایوانِ صحافت محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تربیت گاہ ہے، جہاں صحافت کے وقار، نظم و ضبط اور اصولوں کو ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ 14 سال بعد پریس کلب کے دروازے نئی نسل کے لیے کھولنا ماضی کے احترام اور مستقبل کی قیادت کے لیے راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔مقررین نے کہا کہ ”دورِ حاضر کی ڈیجیٹل صحافت میں ایک ہی شخص رپورٹر، کیمرا مین اور ایڈیٹر کا کردار ادا کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر رکن تکنیکی مہارت، ایڈیٹنگ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ سیکھنے پر بھرپور توجہ دے۔” انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے صحافیوں میں جذبہ اور توانائی موجود ہے، اب اسے پیشہ ورانہ نظم و ضبط سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”نئی ممبرشپ حاصل کرنے والے نوجوان صحافیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سینئرز سے رہنمائی حاصل کریں، خبر کو مختلف ذرائع سے کنفرم کریں، اور اپنی تحریر و رپورٹنگ کے ذریعے ادارے کی نیک نامی میں اضافہ کریں۔” انہوں نے کہا کہ ایوانِ صحافت کا ڈسپلن، روایت اور ساکھ ہر رکن کے لیے رہنما اصول ہیں جن پر عمل کرنا ادارے کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔مقررین نے کہا کہ ”یہ ادارہ ہماری شناخت، عزت اور وقار کا محور ہے۔ قلم اور کیمرے کی حرمت ایک مقدس امانت ہے جس کی پاسداری ہر رکن کی اولین ذمہ داری ہے۔” انہوں نے کہا کہ صحافت محض پیشہ نہیں بلکہ ایک خدمت اور قومی فریضہ ہے، جس میں سچائی، دیانت داری اور اخلاقیات سے کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پریس کلب کا آئین، ڈسپلن اور ضابطہ اخلاق تمام اراکین کے لیے یکساں ہیں۔ اٹینڈنس، ورکنگ رپورٹنگ اور ادارے کی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ ایوانِ صحافت کی ساکھ مزید مستحکم ہو۔تقریب کے اختتام پر صدر سجاد قیوم میر نے تمام نئے ایسوسی ایٹ ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ ممبرشپ ایک اعزاز بھی ہے اور ایک بھاری ذمہ داری بھی — ہمیں امید ہے کہ آپ اپنی محنت، خلوص اور اخلاق سے اس ادارے کا نام مزید بلند کریں گے۔”
86
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل