اسلام آباد: ملک میں پٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج، 5 نومبر 2026 سے ہو گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول 7 روپے 6 پیسے فی لیٹر سستا ہوا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 71 پیسے فی لیٹر کی کمی ہوئی ہے۔ عام شہریوں کو اس کمی سے کچھ ریلیف ملے گا۔ ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو بھی فائدہ ہوگا۔ ایندھن کی قیمت کا اثر سفری اخراجات پر پڑتا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں کمی کی تفصیل
نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول اب 362 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ پہلے پٹرول 369 روپے 6 پیسے فی لیٹر تھا۔ ڈیزل اب 387 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ پہلے ڈیزل 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر تھا۔ درست کمی 7 روپے 6 پیسے ہے۔ یہ 7 روپے 60 پیسے نہیں ہے۔ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ عوام کو اس سے درست معلومات ملتی ہیں۔ کمی آج سے ملک بھر میں نافذ ہے۔ صارفین اب نئی قیمتوں پر ایندھن خرید سکتے ہیں۔
یہ مسلسل تیسرے روز کی کمی ہے۔ گزشتہ روز، 4 نومبر کو پٹرول 369 روپے 6 پیسے تھا۔ اسی روز ڈیزل 391 روپے 52 پیسے تھا۔ 3 نومبر کو پٹرول 374 روپے 51 پیسے تھا۔ اسی دن ڈیزل 395 روپے 20 پیسے تھا۔ تسلسل سے ایک بات واضح ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں قیمتوں کے نظام میں تبدیلی آئی ہے۔ فائدہ براہ راست صارفین کو مل رہا ہے۔ گزشتہ روز کی تفصیل گزشتہ روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی خبر میں موجود ہے۔
پٹرول کی قیمت اور روزانہ قیمتوں کا نظام
ملک میں اب روزانہ قیمتوں کا نظام نافذ ہے۔ نظام کے تحت قیمتیں ہر روز طے ہوتی ہیں۔ عالمی مارکیٹ کے رجحانات اس میں دیکھے جاتے ہیں۔ دیگر عوامل بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ نظام کا مقصد واضح ہے۔ عالمی کمی یا اضافے کا اثر فوری پہنچے۔ پرانی قیمتیں ہفتوں تک برقرار نہ رہیں۔ ماہرین نے ایک امید ظاہر کی ہے۔ عالمی قیمتیں مستحکم رہیں تو مقامی قیمتیں بھی مستحکم رہیں گی۔
پٹرولیم لیوی کے بارے میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیوی 80 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ رقم قیمتوں سے الگ ہے۔ بات بطور رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اسے حتمی سرکاری اعلان نہ سمجھا جائے۔ مجموعی طور پر یہ کمی خوش آئند ہے۔ ذاتی گاڑیوں کے اخراجات اس سے کم ہوں گے۔ مال برداری پر بھی دباؤ کم ہوگا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
عوام اور کاروبار پر ممکنہ اثرات
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن سستا ہونا مفید ہے۔ کاروباری لاگت اس سے کم ہوتی ہے۔ بالواسطہ فائدہ عام صارف کو مل سکتا ہے۔ ایک شرط اس کے لیے ہے۔ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی ہونی چاہیے۔ معاشی ماہرین نے ایک مشورہ دیا ہے۔ صارفین کو ہر روز نئی قیمتوں سے آگاہ رہنا چاہیے۔ بجٹ کی بہتر منصوبہ بندی اس سے ممکن ہوگی۔ کرنسی مارکیٹ کی صورتحال بھی اہم ہے۔ اس حوالے سے ڈالر ریٹ کی تازہ صورتحال بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
قیمتوں میں کمی ایسے وقت میں آئی ہے۔ عوام اس وقت مہنگائی کے دباؤ میں ہیں۔ کمی اس لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ کمی اگرچہ محدود ہے۔ پھر بھی اسے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دن اہم ہوں گے۔ عالمی منڈی کے رجحانات دیکھے جائیں گے۔ کمی کا سلسلہ برقرار رہتا ہے یا نہیں، یہ بھی دیکھا جائے گا۔ مزید تفصیل کے لیے اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں کمی کی خبر پڑھی جا سکتی ہے۔