61

ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں جنوری سال کا دردناک مہینہ ہےعزیر احمد غزالی

ڈیلی دومیل نیوز،چیئرمین پاسبان حریت جموں کشمیر عزیر احمد غزالی کے مطابق ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں جنوری سال کا دردناک مہینہ ہے جس میں بھارتی فوجیوں نے قتل ، بربریت اور ظلم کی بدترین مثالیں قائم کیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جنوری کو “موت کا مہینہ” کہا جاتا ہے۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں بھارتی ریاستی جبر نے بارہا تمام حدیں پار کیں اور کشمیری عوام کو آزادی ، حق خودارادیت اور انصاف مانگنے کی پاداش میں اجتماعی سزا دینے کیلئے خون کی نہریں بہائیں ۔ جنوری کشمیری عوام کے لیے ماتم اور سوگ کی نشانی نہیں بلکہ اس عزم کی یاد دہانی بھی ہے جو قتلِ عام اور ریاستی قہر کے باوجود آج تک قائم ہے۔

6 جنوری 1993 کی صبح سوپور میں ایک قیامت خیز منظر سامنے آیا۔ بھارتی نیم فوجی دستوں نے شہری آبادی پر بلاامتیاز فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 55 سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ بعد ازاں گھروں، دکانوں، بازاروں اور گاڑیوں پر گن پاؤڈر چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ مرد، عورتیں، بچے اور مسافر جو سامنے آیا، ریاستی قہر کا نشانہ بنا۔ سوپور کی یہ صبح اجتماعی سزا اور منظم انتقام کی بدترین مثال بن گئی۔

15 جنوری 1990 کو ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں بھارتی فوج نے نہتے شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔ اس اندھا دھند کارروائی میں 17 عام شہری شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجی اہلکاروں نے کسی پیشگی وارننگ کے بغیر فائر کھولا۔ زخمیوں میں نوجوان، بزرگ اور عام راہگیر شامل تھے۔ شہریوں کو صرف آزادی مانگنے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں