لاہور — 22 جنوری 2026 پاکستان سپر لیگ (PSL) کی مقبول ترین فرنچائز لاہور قلندرز کی ملکیت کے حوالے سے جاری طویل قانونی جنگ اپنے انجام کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ثالثی عدالت (Arbitration Court) نے لاہور قلندرز کے بانی فواد رانا کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کے بھائیوں، عاطف رانا اور سمین رانا کو حکم دیا ہے کہ وہ یا تو فرنچائز کا انتظام واپس کریں یا اربوں روپے کے واجبات ادا کریں۔
عدالتی فیصلہ اور جرمانہ
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ ثالث، جسٹس (ر) مقبول باقر نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ عاطف اور سمین رانا:
لاہور قلندرز کا انتظام فواد رانا کی قطر میں قائم کمپنی ‘کالکو’ (QALCO) کو واپس کریں، یا
فواد رانا کے حصص (Shares) کے عوض 2.3 ارب روپے ادا کریں۔
مارک اپ کے ساتھ یہ رقم اب 3 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ عدالت نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 45 دن کی مہلت دی ہے۔
تنازع کی جڑ: ایک خاندانی معرکہ
یہ تنازع 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب فواد رانا نے 26 ملین ڈالر میں لاہور کی فرنچائز خریدی۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کو روزمرہ کے معاملات چلانے کے لیے ساتھ ملایا اور پاکستان میں ‘کوثر رانا ریسورس’ (KRR) کے نام سے ایک کمپنی رجسٹر کروائی۔
ابتدا میں فواد رانا کے پاس 51 فیصد اور عاطف رانا کے پاس 48 فیصد حصص تھے۔
2018 میں تبدیلی: مالی دباؤ کا بہانہ بنا کر 4 فیصد حصص عاطف رانا کو منتقل کیے گئے، جس سے فواد رانا کی اکثریت ختم ہو گئی۔
2020 کا دھوکہ: الزام ہے کہ بھائیوں نے فواد رانا کو قائل کیا کہ ایک خریدار فرنچائز خریدنا چاہتا ہے، جس کے لیے ‘سول اونرشپ’ دکھانا ضروری ہے۔ فواد رانا نے بغیر کسی ادائیگی کے اپنے بقیہ 47 فیصد حصص بھی بھائیوں کے نام کر دیے، لیکن بعد میں انہیں فرنچائز سے مکمل طور پر علیحدہ کر دیا گیا۔
پراسرار ‘مسٹر نیازی’ اور خفیہ فروخت
دورانِ سماعت ایک نیا انکشاف سامنے آیا کہ 2021 میں کمپنی کے 30 فیصد حصص کسی ‘مسٹر نیازی’ نامی شخص کو فروخت کیے گئے تھے۔ فواد رانا کے وکلاء کا دعویٰ ہے کہ یہ فروخت ان سے چھپائی گئی تھی۔ عدالت نے اب اس فروخت سے ہونے والے تمام منافع کا حساب بھی طلب کر لیا ہے۔
مستقبل کی صورتحال اور پی سی بی کا کردار
اگرچہ عاطف رانا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم فواد رانا کے وکلاء نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور سلمان نصیر کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک ادائیگی نہیں ہوتی یا حصص منتقل نہیں ہوتے، موجودہ انتظام کے ساتھ کوئی بھی بڑا معاہدہ نہ کیا جائے۔