مظفرآباد(ڈیلی دومیل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر ایم ایل اے سٹی مظفرآباد خواجہ فاروق احمد نے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی صدارت میں ہونے والے اجلاس جو دارالحکومت مظفرآباد کو خوبصورت بنانے،عوام کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کرنے،تجاوزات سے پاک کرنے اور کھیل کے میدان سٹریٹ لائیٹس،اندرون شہر سڑکات کو بہتر بنانے،ٹریفک کے بے ہنگم دباؤ کو کنٹرول میں لانے جیسے اقدامات پر غور کیا گیا اور اجلاس کی جاری پریس ریلیز کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد کو ایک خوبصورت قابل دید شہر بنایا جائے گا کو خو ش آئند قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کی توجہ ضلع مظفرآبادکی سڑکات کے لیے فنڈز مختص کرنے کی جانب دلاتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ کے اجلاس کے فیصلوں کے بعد اتنے قلیل فنڈز سے یہ سب کچھ ممکن ہوگا۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ CNW کے ایک حالیہ اجلاس میں سڑکات کے لیے جو فنڈ ز منظور کیے گئے ہیں،کھاوڑہ 27کروڑ،لنگر پورہ 15کروڑ،لچھراٹ 13 کروڑ،کوٹلہ 13کروڑ، سٹی مظفرآباد صرف 6.50 کروڑ،فلائی اوور کے لیے صرف 50لاکھ،لوہار گلی روڈ کے لیے صرف 15لاکھ کیا دارالحکومت مظفرآباد کے حصہ میں صروف 6.50کروڑ ہی آتے ہیں۔اتنی قلیل رقم سے آپ کیسے مظفرآباد کو خوبصورت بناسکتے ہیں۔ترقیاتی فنڈز حلقہ کی بنیاد پر تقسیم کیے جاتے ہیں،75 کروڑ روپے ضلع مظفرآباد کی سڑکات کے لیے تھا اس میں سے صرف 6.50 کروڑ حلقہ تین کو ملا ہے۔سپیکر اسمبلی کے حلقہ کو کیوں 27کروڑ جاری کیا گیا،دیگر حلقہ جات میں بھی اس طرح فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔دارالحکومت کو کیا صرف اس لیے سزاد ی جارہی ہے کہ یہ حلقہ اپوزیشن میں ہے،باقی سب حکومتی حلقہ جات ہیں،نیلم ضلع اور جہلم ویلی ضلع کے فنڈز کی تفصیل بھی حلقہ تین سٹی مظفرآباد سے زیادہ ہے۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ میرا روز اول سے موقف ہے کہ دارالحکومت کو صرف ایک حلقہ ٹریٹ نہ کیا جائے یہاں پر مظفرآباد ڈویژن کے تمام وزراء،صدر،وزیراعظم،سپیکر،چیف سیکرٹری ودیگر بڑے بڑے آفیسران رہتے ہیں سب اس حلقہ میں دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن جب فنڈز تقسیم کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو ایک طرف 27 کروڑ سپیکر کے حلقہ میں دوسری جانب صرف 6کروڑ اپوزیشن کے حلقہ میں جو دارالحکومت بھی ہے تو کیا ہم اب 6وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے فیصلہ جات پر عملدرآمد کریں گے۔دارالحکمت کے ساتھ اس شدید ناانصافی پر اسمبلی کے آمدہ اجلاس میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔دارالحکومت کے وکلاء،سول سوسائٹی،تاجروں سب کو دارالحکومت کے ساتھ اس شدید ناانصافی پر احتجاج کرنا چاہیے۔وزیراعظم کو بھی چاہیے کہ ان کی زیر صدارت ہونے والے فیصلہ جات کو اس فنڈز کی تقسیم کے ذریعے کہیں سبوتاژ نہیں کیا جارہا،فلائی اوور کیا صرف 50 لاکھ میں بن پائے گا جو اس منصوبہ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
32
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل