33

جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ پر پابندی قابل مذمت ہے: چوہدری محمد رفیق نئیر

ڈیلی دومیل نیوز،وزیر اطلاعات و مذہبی امور آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری محمد رفیق نئیر نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے مسلمانوں کو روکنا انتہائی افسوسناک اور انتہاپسندانہ عمل ہے جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کے بدترین مظالم ڈھا کر طاقت کے بل پر کشمیری عوام کی آواز دبانے کے ساتھ ساتھ ان کی مذہبی و سماجی آزادیوں کو بھی مسلسل سلب کر رہا ہے۔چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مساجد پر پابندیاں ، نماز جمعہ کی ادائیگی روکنا اور مذہبی اجتماعات کو روکنا دراصل بھارتی انتہا پسند حکومت کا وہ مکروہ چہرہ بے نقاب کرتا ہے جو کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر کاربند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے عقیدے، شناخت اور مذہبی آزادی کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ وزیر اطلاعات نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادیوں پر عائد پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی نوشتہ دیوار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں