فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) جرائم پیشہ افراد اور نوسربازوں کی طرف سے ٹیکس دہندگان کے قومی شناختی کارڈز کو استعمال کرتے ہوئے پاک سوزوکی موٹرکمپنی لمیٹڈ سے گاڑیاں خریدنے اور بے نامی ٹرانزیکشنز کرنے کے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔
نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق ایف بی آر کو اس حوالے سے وفاقی ٹیکس محتسب کی طرف سے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔وفاقی ٹیکس محتسب کی طرف سے ایف بی آر کو دو ٹوک انداز میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے قومی شناختی کارڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے ٹرانزیکشنز ہونا اور سوزوکی کمپنی سے گاڑیوں کی خریداری سنگین نوعیت کی بدانتظامی ہے، جس کی تحقیقات میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ایک شہری کی طرف سے وفاقی ٹیکس محتسب کو کمشنر (اپیل) سکھر کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔شکایت میں 13فروری 2023ءکے ایک اپیلیٹ آرڈر کے بارے میں بتایا گیا ہے جس میں سوزوکی کمپنی کی 20گاڑیوں کی خریداری پر سال 2020ءاور 2021ءبالترتیب 40لاکھ 8ہزار 450روپے اور 54لاکھ 15ہزار 100روپے ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔
77