74

غزہ کے مجوزہ گورننس فریم ورک کی کامیابی صدر ٹرمپ کی براہِ راست قیادت سے مشروط ہے سردار مسعود خان

ڈیلی دومیل نیوز،آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ کثیرسطحی گورننس فریم ورک، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی فارمولے پر مبنی ہے، اسی صورت مؤثر رہ سکتا ہے جب تک صدر ٹرمپ خود اس کی قیادت اور براہِ راست سرپرستی کرتے رہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ کسی فوری یا عارضی سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے زیرِ بحث تجاویز اور خیالات کو یکجا کر کے اسے ایک جامع روڈمیپ کی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس فریم ورک میں تین سطحی انتظامی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے، جس میں ”بورڈ آف پیس“ مرکزی اور سب سے طاقتور فورم ہوگا، جس کی صدارت صدر ٹرمپ خود کریں گے۔ اس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ جبکہ تیسری سطح پر غزہ کے لیے ایک مقامی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔ سردار مسعود خان کے مطابق اس منصوبے میں انتظامی سطح پر فلسطینیوں کی محدود شمولیت شامل ہے، جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتظامی اور وزارتی تجربہ رکھنے والے افراد کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نظام کو جزوی طور پر بلدیاتی نوعیت تو ملے گی، تاہم اصل اسٹریٹجک اور فیصلہ کن اختیارات بالائی فورمز کے پاس ہی رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار ادارہ جاتی ڈیزائن سے زیادہ سیاسی حقائق پر ہے۔ جب تک صدر ٹرمپ کی سیاسی گرفت مضبوط رہے گی، یہ فریم ورک فعال رہے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بورڈ آف پیس اور ایگزیکٹو سطح پر وہ شخصیات شامل ہوں گی جو امریکی صدر کے قریبی سمجھی جاتی ہیں، جن میں کابینہ کے ارکان، قومی سلامتی کے حکام اور سیاسی و کاروباری حلقوں سے وابستہ صدر کے دیرینہ رفقا شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق رئیل اسٹیٹ اور تعمیرِ نو سے وابستہ شخصیات کی شمولیت سے منصوبے کے معاشی اور تعمیراتی پہلو نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ ابتدائی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل جنگ، شدید تباہی اور جانی نقصانات سے دوچار غزہ کے عوام اگر بنیادی سلامتی اور معمولاتِ زندگی کی جزوی بحالی کے امکانات دیکھیں تو محدود تعاون پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تاہم مکمل آزادی، خودمختاری اور وسیع علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کے خاتمے کا امکان بدستور موجود نہیں ہوگا۔سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مجموعی ذمہ داری ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے پاس ہوگی، جس کی قیادت ایک امریکی جنرل کرے گا۔ یوں سیکیورٹی سے متعلق اہم فیصلے عملاً امریکی اختیار میں ہوں گے جبکہ اسرائیل ہم آہنگی کے کردار میں رہے گا۔ اس کے برعکس فلسطینیوں کو صرف محدود بلدیاتی نوعیت کے اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ بڑے سیاسی اور اسٹریٹجک فیصلے بورڈ آف پیس کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔اقوام متحدہ کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ غزہ میں ناکامی اقوام متحدہ کی غیر مؤثریت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مفلوج ہونے کی بنیادی وجہ مستقل ارکان کی عمومی مزاحمت نہیں بلکہ امریکہ کی جانب سے بار بار ویٹو کا استعمال رہا ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کو کارروائی سے روکا گیا، اس نے خود غیر فعال ہونے کا انتخاب نہیں کیا، لہٰذا کثیرالجہتی اداروں پر الزام تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ یکطرفہ یا متبادل انتظامات کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں، تاہم یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر امریکی اتحادی اقوام متحدہ کے نظام کے متبادل کے طور پر کسی ایک ملک کی قیادت والے ماڈل کو قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ یورپ میں اختلافی آوازیں ابھر رہی ہیں جبکہ گلوبل ساؤتھ اب بھی منقسم ہے اور تاحال کوئی مشترکہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کو شرکت کی مبینہ دعوت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کے تعمیری کردار کے اعتراف کی عکاس ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر ماضی میں صدر ٹرمپ پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے زور دیا تھا، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی میں تفصیلی غور و فکر، سیاسی قوتوں اور متعلقہ حلقوں سے مشاورت کے بعد کیا جانا چاہیے تاکہ فیصلہ قومی اصولوں اور عوامی جذبات سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک کی شرکت کی نوعیت مختلف سطحوں پر زیرِ غور ہے، کہیں سربراہانِ حکومت، کہیں وزراء اور کہیں سیکیورٹی حکام کی نمائندگی متوقع ہے۔سفیر مسعود خان نے بعض رپورٹس میں سامنے آنے والی مالی شرائط کی طرف بھی توجہ دلائی، جن میں بھاری مالی تعاون کی توقعات شامل ہیں، جن کے باعث کچھ ممالک اور نمایاں شخصیات پہلے ہی اس عمل سے پیچھے ہٹ چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ عوامل پاکستان کے لیے سوچ سمجھ کر اور محتاط قدم اٹھانے کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ نہایت حساس اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے، اور پاکستان کو سفارتی مواقع اور اصولی مؤقف کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی قدم عوامی خواہشات، قومی اتفاقِ رائے اور فلسطین سے متعلق پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی واضح عکاسی کرنا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں