بیجنگ — 26 جنوری 2026 چین کی فوجی قیادت اس وقت ایک بڑے بحران کا شکار ہے جب صدر شی جن پنگ کے انتہائی قابلِ اعتماد ساتھی اور سینٹرل ملٹری کمیشن (CMC) کے وائس چیئرمین، جنرل ژانگ یوشیا، کے خلاف “نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں” پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ جنرل ژانگ، جو چینی فوج (PLA) کے کمانڈ سٹرکچر میں صدر شی کے بعد دوسرے طاقتور ترین شخص سمجھے جاتے ہیں، اب ایک بڑے کرپشن کریک ڈاؤن کا شکار ہو گئے ہیں۔
سنگین الزامات: ایٹمی رازوں کی چوری اور رشوت ستانی
وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، 75 سالہ جنرل ژانگ پر درج ذیل سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں:
ایٹمی رازوں کا افشا: الزام ہے کہ انہوں نے چین کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق انتہائی حساس اور تکنیکی ڈیٹا امریکہ کو فراہم کیا ہے۔
رشوت ستانی: ان پر افسران کی ترقیوں کے بدلے بھاری رقوم بطور رشوت لینے کا الزام بھی ہے، جس میں ایک افسر کو وزیرِ دفاع کے عہدے تک پہنچانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
اعتماد کی خلاف ورزی: چینی فوجی اخبار ‘لیبریشن آرمی ڈیلی’ نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ ژانگ اور ان کے ساتھی لیو ژینلی (چیف آف اسٹاف) نے کمیونسٹ پارٹی کے اعتماد کے ساتھ “سنگین غداری” کی ہے۔
شی جن پنگ کا کرپشن کریک ڈاؤن اور فوجی استحکام
جنرل ژانگ یوشیا کا شمار ان چند جرنیلوں میں ہوتا تھا جنہیں جنگی تجربہ حاصل تھا (ویتنام جنگ 1979)۔ صدر شی نے ان پر غیر معمولی بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ریٹائرمنٹ کی عمر کے بعد بھی عہدے پر برقرار رکھا تھا۔
بڑے پیمانے پر تطہیر (Purge): 2022 میں منتخب ہونے والے 7 رکنی سینٹرل ملٹری کمیشن میں سے اب صرف صدر شی اور اینٹی کرپشن افسر ہی محفوظ بچے ہیں، باقی تمام کسی نہ کسی تحقیقات کا شکار ہو چکے ہیں۔
تائیوان اور دفاعی تیاری: ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اعلیٰ سطحی تبدیلیوں سے چینی فوج کی اندرونی استحکام اور تائیوان کے حوالے سے ان کی جنگی تیاریوں (Readiness) پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔