72

آزاد کشمیر یونیورسٹی میں جاری شدید مالی بحران کے باعث اساتذہ اور ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا

ڈیلی دومیل نیوز: 2 فروری سے آزاد کشمیر یونیورسٹی کے تمام کیمپسز بند، تدریسی و انتظامی بائیکاٹ کا اعلان،یونیورسٹی اتھارٹیز اور حکومت کے پاس صرف چار دن باقی،آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد میں جاری شدید مالی بحران کے باعث اساتذہ اور ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 2 فروری 2026ء سے یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے پانچوں کیمپسز مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔ایسوسی ایشنز کے مطابق فیکلٹی ممبران اور ملازمین کی جانب سے کیمپسز میں احتجاج کیا جائے گا، جس کے بعد پریس کلب آزاد کشمیر، قانون ساز اسمبلی اور پرائم سیکرٹریٹ کی جانب پرامن احتجاجی مارچ بھی کیا جائے گا۔ اس ممکنہ احتجاج کے باعث جامعہ کشمیر اور آزاد کشمیر بھر کے افیلیٹڈ کالجز میں جاری ٹرمینل امتحانات کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کو ارسال کردہ باضابطہ مکتوب میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سال 2025ء کے ARA/DRA میں ہونے والے اضافے کی فوری ادائیگی اور سات ماہ کے تمام بقایا جات بلا تاخیر ادا کیے جائیں۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ سات ماہ سے اپنے جائز مالی حقوق سے محروم ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں اور دیگر جامعات میں یہ اضافہ بروقت ادا کیا جا چکا ہے۔ایسوسی ایشنز نے واضح کیا کہ یہ امتیازی سلوک نہ صرف ملازمین کے معاشی استحصال کے مترادف ہے بلکہ یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول، وقار اور ساکھ کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ مکتوب میں مزید انکشاف کیا گیا کہ مالی بحران کے باعث متعدد ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی بھی تعطل کا شکار ہے، جبکہ دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے ورثاء، بالخصوص یتیم بچوں کو طویل عرصے سے اسسٹنس فیملی پیکج کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ایسوسی ایشنز کے مطابق یونیورسٹی کے مالی بحران اور ملازمین کے مسائل سے متعلق مستند اتھارٹیز اور حکومتی ذمہ داران کو متعدد مرتبہ تحریری مراسلوں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔ اسی تسلسل میں اساتذہ اور عملے نے 30 دسمبر 2025ء سے دو ہفتوں تک روزانہ 12 گھنٹے پرامن احتجاج بھی کیا، جبکہ 14 جنوری 2026ء کو مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے ایک مرتبہ پھر فوری حل کا مطالبہ دہرایا گیا، تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن اور اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ جنوری 2026ء کی تنخواہ کے ساتھ 2025ء کے ARA/DRA اور سات ماہ کے تمام بقایا جات فوری ادا کیے جائیں۔ ایسوسی ایشنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ ڈیڈ لائن تک ادائیگیاں نہ کی گئیں تو 2 فروری 2026ء سے جامعہ کشمیر میں تدریسی اور انتظامی امور کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔اعلان میں واضح کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر یا پرامن احتجاجی مارچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی اتھارٹیز اور حکومتی ذمہ داران پر عائد ہو گی۔ صدر ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن اور صدر اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے حکومت آزاد کشمیر اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ کشمیر کے مالی بحران کا مستقل حل نکالا جائے اور ملازمین کے جائز حقوق فوری طور پر ادا کیے جائیں تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں