5

وزیراعظم آزاد کشمیر کا آذربائیجان کی مسئلہ کشمیر پر حمایت کو سراہنے کا اظہار

ڈیلی دومیل نیوز، وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ آذربائیجان کی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہر موقع پر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، پاکستان کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں بھارتی قبضے سے آزادی دلائی خودمختاری دی اور ہر ممکن طریقے سے ہماری حمایت کی تاکہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب موجود ہمارے معصوم بھائیوں اور بہنوں کی مدد کی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آذربائیجان ریپبلک براڈکاسٹر ٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بھارت کے غیر قانونی اور غیر آئینی تسلط سے آزادی کیلئے تقریبا 80 سالوں سے جدوجہد کررہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر انسانی تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے گئے، بھارت نے کشمیریوں کی شناخت کو آئینی جارحیت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی، ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب رہنے والے کشمیری بھی وہی امن اور آزادی حاصل کریں جو ہمیں آزاد جموں و کشمیر میں میسر ہے۔ ہم پاکستان کی بہادر مسلح افواج کی موجودگی میں مکمل محفوظ محسوس کرتے ہیں، پاک افواج اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہماری حفاظت کرتی ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا آج فلسطین کے مسئلے کو حل نہ کرنے کے نتائج دیکھ رہی ہے۔ میں دنیا کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو یہ خطے میں ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے اور اس جنگ کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس لیے بھارت کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر جوابدہ ٹھہرانا اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرنا ناگزیر ہے۔ ایک اور سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ آذربائیجان کو چین اور ترکی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قریب ترین دوستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ آذربائیجان نہ صرف پاکستان کے مؤقف کا مضبوط حامی ہے بلکہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کی بھی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ایک اور سوال پر وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی پوری زندگی جمہوریت کی علمبردار رہیں اور اسی جدوجہد میں شہید ہوئیں، اسی لیے انہیں شہید جمہوریت کہا جاتا ہے، وہ سوویت یونین سے آزادی کے بعد آذربائیجان کے جمہوری سفر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ شہید بے نظیر بھٹو اور حیدر علییف کے درمیان جمہوریت اور آزاد معیشت کے تصورات پر مبنی خوشگوار تعلقات قائم تھے۔ آزادی کے بعد آذربائیجان نے جن سخت چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ترقی کی، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ See less

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں